Insaf, Azadi Aur Aik Munsifana Muashra (2)
انصاف، آزادی اور ایک منصفانہ معاشرہ (2)
ہم میں سے تقریباً ہر شخص نے کبھی نہ کبھی یہ سوال ضرور کیا ہوگا: میرے ساتھ انصاف کیوں نہیں ہوا؟
کسی کا حق سفارش کی وجہ سے مل گیا، کسی کا کام پیسے کے بغیر نہیں ہوا، کسی کی آواز اس لیے نہیں سنی گئی کہ وہ طاقتور نہیں تھا اور کسی نے صرف اس لیے اپنا حق کھو دیا کہ اس کے پاس اسے حاصل کرنے کے ذرائع نہیں تھے۔
ہم ان واقعات کو عموماً اپنی ذاتی بدقسمتی سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
لیکن اگر ایک لمحے کے لیے ہم اپنی ذات سے باہر نکل کر سوچیں تو سوال کچھ بڑا ہو جاتا ہے:
کیا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہمارے ساتھ کبھی کبھی ناانصافی ہو جاتی ہے، یا ہمارا پورا معاشرہ ہی اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ طاقتور اور کمزور کے لیے انصاف کے پیمانے مختلف ہو جاتے ہیں؟
یہ سوال مجھے ہمیشہ سے پریشان کرتا رہا ہے اور شاید یہی وہ سوال ہے جو ہمیں "منصفانہ معاشرے" کے تصور تک لے جاتا ہے۔
میں نے اس موضوع پر غور کرتے ہوئے امریکی فلسفی جان رالز (John Rawls) کے نظریۂ انصاف کو خاص طور پر اہم پایا۔ رالز کی فکر کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ موجودہ معاشرے میں کون کتنا طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگر ہمیں ایک معاشرہ ازسرنو تشکیل دینے کا موقع دیا جائے تو ہم اس کے بنیادی اصول کیا مقرر کریں گے؟
یہاں رالز ہمارے سامنے ایک نہایت دلچسپ فکری تجربہ رکھتے ہیں۔ تصور کیجیے کہ آپ کو ایک نیا معاشرہ بنانے کا اختیار دیا گیا ہے۔ آپ طے کر سکتے ہیں کہ وہاں قانون کیا ہوگا، تعلیم کا نظام کیسا ہوگا، دولت اور مواقع کی تقسیم کیسے ہوگی، لوگوں کے بنیادی حقوق کیا ہوں گے اور ریاست شہریوں کے ساتھ کس طرح برتاؤ کرے گی۔
لیکن ایک شرط ہے۔ آپ کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ جب آپ اس معاشرے میں پیدا ہوں گے تو آپ کون ہوں گے۔ آپ امیر ہوں گے یا غریب؟ طاقتور خاندان میں پیدا ہوں گے یا ایک ایسے گھر میں جہاں دو وقت کی روٹی بھی مشکل ہو؟ آپ اکثریتی گروہ سے تعلق رکھتے ہوں گے یا کسی اقلیت سے؟ صحت مند ہوں گے یا کسی معذوری کے ساتھ زندگی گزاریں گے؟ اعلیٰ تعلیم تک رسائی ہوگی یا زندگی کے آغاز ہی سے محرومی آپ کا مقدر ہوگی؟ مرد ہوں گے یا عورت؟ شہر میں پیدا ہوں گے یا کسی........
