menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ardeshir Cowasjee Ki Baat Hum Ne Nasuni

14 0
previous day

اردشیر کاؤس جی کی بات ہم نے نہ سنی

کچھ قومیں ایک ہی بڑے سانحے میں بکھر کر تاریخ کے صفحے سے مٹ جاتی ہیں اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر قائم رہتی ہیں مگر اندر سے مسلسل کھوکھلی ہوتی چلی جاتی ہیں۔ وہ گرنے کے بعد دفعتاً ختم نہیں ہوتیں، بلکہ روزانہ، مہینوں اور برسوں کے حساب سے خود کو کھو دیتی ہیں۔ پاکستان بدقسمتی سے دوسری قسم کی ریاستوں میں شمار ہوتا ہے، ایک ایسا ملک جو بقا کے سانس تو لیتا رہتا ہے مگر اصلاح کے اُس بنیادی لمحے سے ہمیشہ فرار اختیار کرتا ہے جس کے بغیر کوئی معاشرہ سنبھل نہیں سکتا۔

یہ وہ ریاست ہے جو ہر نئے بحران کے بعد خود کو "نئے عہد" کے قریب قرار دیتی ہے، مگر ہر بار وہی پرانا چکر نئے چہرے کے ساتھ دہرا دیتی ہے۔ یہاں تاریخ سیکھنے کے لیے نہیں، صرف دہرانے کے لیے پڑھی جاتی ہے اور جو قوم تاریخ کو دہراتی ہے، وہ دراصل اپنے زوال کو معمول بنا لیتی ہے۔

برسوں پہلے مؤرخ Philip Oldenburg نے اپنی کتاب "India, Pakistan, and Democracy: Solving the Puzzle of Divergent Paths" میں اس بنیادی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی تھی کہ ایک ہی تاریخی بطن سے جنم لینے والی دو ریاستیں اتنے مختلف راستوں پر کیوں چل پڑیں۔ ان کا نتیجہ پیچیدہ نہیں تھا بلکہ نہایت بے رحمانہ حد تک سادہ تھا: ریاستیں نعروں سے نہیں چلتیں، وہ اس سے چلتی ہیں کہ اصل طاقت کس کے پاس ہے اور وہ طاقت خود کو جواب دہ سمجھتی بھی ہے یا نہیں۔

ہندوستان میں، اپنی تمام کمزوریوں اور تضادات کے........

© Daily Urdu (Blogs)