Riyasat Ke Liye Lamha e Fikriya
ریاست کے لیے لمحۂ فکریہ
حکومت ایک بار پھر "عالمی مجبوریوں" اور "ذمہ دارانہ فیصلوں" کی آڑ لے کر عوام پر ایسا معاشی بم گرا چکی ہے، جس کے اثرات ہر گلی، ہر بازار، ہر چولہے اور ہر دسترخوان تک پہنچیں گے اور زندگی کو مزید اجیرن بنا دیں گے۔ 55 روپے کے سابقہ اضافے نے جو مہنگائی کا طوفان برپا کیا تھا، قوم ابھی اس کے اثرات سے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ 137 روپے کا نیا اضافہ ایک اور قیامت بن کر نازل ہوگیا۔ اس طوفان کا مقابلہ آج بھی ایک عام آدمی ہی کر رہا ہے۔
وہ شخص جو بیس یا تیس ہزار روپے ماہانہ کماتا ہے، وہ 458 روپے فی لیٹر پیٹرول خرید کر اپنی اور اپنے خاندان کی ضروریات کیسے پوری کرے؟ حکمران طبقہ کی جانب سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بیرونِ ملک بھی پیٹرول مہنگا ہے، مگر اصل فرق قیمت نہیں بلکہ قوتِ خرید ہے۔ جرمنی میں ایک مزدور کی یومیہ آمدنی تقریباً 36 ہزار روپے کے برابر ہے، جبکہ پاکستان میں بمشکل 1500 روپے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا ہے، اس لیے قیمت بڑھانا ناگزیر تھا۔ مان لیا کہ عالمی حالات اثر انداز ہوتے ہیں، مگر پورا بوجھ عوام پر ڈال دینا ناگزیر ہے، نہ ہی........
