Mufti Mehmood Markaz Aur Tajawazat Ki Mamla
مفتی محمود مرکز اور تجاوزات کا معاملہ
پشاور میں جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹریٹ، مفتی محمود مرکز کے حوالے سے تجاوزات کی بحث سوشل میڈیا پر جاری ہے۔ پہلے عمارت کے ایک حصے کے خلاف کارروائی کی خبریں سامنے آئیں، پھر جماعت کی جانب سے وضاحت پیش کی گئی، مختلف آرا کا اظہار ہوا، سیاسی مخالفت اور انتقام کے خدشات ظاہر کیے گئے اور بالآخر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق یہ وضاحت بھی سامنے آئی کہ مرکز کو گرانے کے لیے نہ کوئی نوٹس جاری کیا گیا تھا اور نہ ہی اسے مسمار کرنے کا کوئی ارادہ تھا۔ یہ پیش رفت یقیناً قابلِ توجہ ہے، لیکن اس پورے معاملے میں اصل سبق یہ ہے کہ کسی بھی معاملے میں فیصلہ الزامات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ حقائق کی روشنی میں ہونا چاہیے اور قانون کا نفاذ طاقت، شہرت یا سیاسی وابستگی دیکھ کر نہیں، یکساں اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔
مفتی محمود مرکز محض اینٹوں، سیمنٹ اور دیواروں سے بنی ایک عمارت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی مذہبی و سیاسی جماعت کا مرکز ہے جس سے ہزاروں کارکنوں کی وابستگیاں، ایک طویل سیاسی تاریخ اور مذہبی و عوامی سرگرمیوں کا ایک سلسلہ جڑا ہوا ہے۔ ایسے مرکز کے بارے میں جب تجاوزات یا انہدام کی خبر سامنے آتی ہے تو اس سے لاکھوں کارکنوں کے جذبات، جماعت کی ساکھ اور سیاسی ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔ یہ توقع بجا ہے کہ نفاذ اسلام کی داعی اتنی معروف مذہبی و سیاسی جماعت نے اپنا مرکزی دفتر کسی ناجائز قبضے والی جگہ پر قائم نہیں کیا ہوگا، تاہم متعلقہ ریکارڈ اور قانونی دستاویزات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح محض کسی........
