Aur Emergency Nafiz Ho Gai
اور ایمرجنسی نافذ ہوگئی
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ اس ملک میں پہلے کون سا جمہوری نظام قائم ہے۔ یہاں تو برسوں سے جمہوریت کے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ اختلافِ رائے کو کچلنے کی کوششیں ہوتی ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں اصولوں سے زیادہ مفادات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ عوام کے حصے میں ہر دور میں ناانصافی، پریشانی، مہنگائی اور بے روزگاری ہی آتی ہے۔ اس ملک میں پہلے کون سا ڈھنگ کا نظام چل رہا ہے کہ اب کسی ایک فیصلے پر حیرت یا افسوس کیا جائے۔ حکومتیں بننے سے لے کر ٹوٹنے تک سب کچھ اسی طرح چل رہا ہے۔
حیرت ایمرجنسی کے نفاذ پر اتنی نہیں، جتنی ان لوگوں پر ہے جو اس فیصلے پر خوشیاں منا رہے ہیں۔ یہ لوگ اگر ایسا ہی اقدام اپنی جماعت کی حکومت کے خلاف دیکھیں تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے، آئین یاد آنے لگتا ہے، بنیادی حقوق کی دہائیاں دی جاتی ہیں اور ظلم کے خلاف طویل تقریریں شروع ہو جاتی ہیں، لیکن جب یہی کام ان کی........
