menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ye Jabr Bhi Dekha Hai Tareekh Ki Nazron Ne

32 0
23.04.2026

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہوتی بلکہ یہ لحموں کی خطاء ہوتی ہے اور پھر انسان اس کی سزا صیوں کاٹتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی جب بھی عروج پر پہنچی ہے، خطے کے دیگر ممالک خصوصاً پاکستان کے لیے ایک نازک امتحان بن جاتی ہے۔ مہنگائی کی لہر عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیتی ہے۔ معاشرہ بے چینی کا شکار ہوتا ہے۔ حالیہ جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے تناظر میں اگر پاکستان کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام آباد نے ہمیشہ ایک ذمہ دار اور متوازن سفارتی پالیسی اپنانے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہ رہا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی کردار ادا کرے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور سرحدی تعلقات ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک اور اقتصادی روابط بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اکثر ان دونوں کے درمیان کشیدگی میں ایک"بیلنسنگ ایکٹ"کرتا نظر آتا ہے۔ دُنیا میں جب پاکستان کی امن پالیسی کو سراہا جارہا ہے وہاں ہی بھارت جو ازل سے امن کا دشمن ہے۔ اس کی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مودی کی امن دشمن پالیسی خطے کے امن کے لئے بڑا خطرہ ہے۔

جنگیں ہمیشہ تباہی لاتی ہیں۔ آج کا انسان ترقی کی بلند ترین منزلوں کو چھو رہا ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں بے مثال کامیابیاں........

© Daily Urdu (Blogs)