Khamosh Faryaadein, Ansuni Kahaniyan
خاموش فریادیں، ان سنی کہانیاں
نیا تعلیمی سال شروع ہو چکا۔ کتنے ہی طالب علم فیس، کتابوں کی عدم دستیابی کے باعث تعلیم سے محروم ہوں گے۔ کئی خواب چکنا چور ہوں گے، ہمارے ارد گرد ہی تو یہ ہورہا ہے۔ مگر آج ہماری ترجیحات وہ نہیں جو ہونی چاہیے۔ دراصل معاشرے کی حقیقی ترقی کا پیمانہ صرف بلند عمارتیں یا جدید سڑکیں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ تعلیم یافتہ ذہن ہوتے ہیں جو مستقبل کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ آج ہمارے اردگرد ایسے بے شمار ہونہار طلبہ موجود ہیں جو قابلیت، عزم اور خواب تو رکھتے ہیں، مگر وسائل کی کمی ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جن کی آنکھوں میں ڈاکٹر، انجینئر، استاد اور محقق بننے کے خواب تو ہیں، مگر جیب کی خالی پن انہیں ہر قدم پر روک دیتا ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں تعلیم ایک خواب بنتی جا رہی ہے، خاص طور پر ان گھرانوں کے لیے جہاں دو وقت کی روٹی ہی ایک چیلنج ہو۔ کئی باصلاحیت طلبہ محض فیس ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو دن میں مزدوری اور رات میں پڑھائی کرتے ہیں، مگر تھکن اور حالات کے بوجھ تلے ان کے خواب دم توڑنے لگتے ہیں۔
زندگی کی دوڑ میں انسان اکثر یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ سکون صرف مال و........
