menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Taqat Ke Markaz Ka Inqisam

20 0
12.07.2026

طاقت کے مرکز کا انقسام

جرات و استقامت اگر حکمت کے ساتھ ہو تو نتیجہ خیز بھی ہوتی ہے اور ثمر آور بھی، اس کے بغیر یہ دونوں وصف بربادی لاتے ہیں۔ آیت اللہ علی خمینی کا مجلس تحریم سے خطاب کو اسی تناظر میں سمجھا جانا ضروری پے۔ ذرائع کے مطابق ان کا کہنا تھا "امریکہ سے دوستی خیانت ہے۔ ھمارا ہاتھ کبھی بھی امریکہ کی طرف نہیں بڑھے گا البتہ امن مذاکرات اور اپنے مطالبات کے لیے بات چیت الگ بات"۔

اس بات کو مد نظر رکھ کر اگر امریکہ ایران تنازع کو سمجھا جائے تو ایران کی جرات و استقامت کی داد دینا بنتی ہے اور اسے عالمی برادری بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے بالخصوص مسلم ممالک جبکہ اسرائیل و امریکہ جارح کے روپ میں سامنے آئے۔ جنگ کا پہلا فیز جرات و استقامت کا، ایران نے جیت لیا اب ان اوصاف کو مذاکرات کے ذریعے ثمر آور اور نتیجہ خیز بنانے کا کٹھن ترین مرحلہ کہ جس میں جوش کی بجائے ہوش، غصہ کی بجائے تحمل اور اسئی سے ایران 47 سال کی محرومیوں، پابندیوں اور تنہائیوں کو ختم کرکے اپنے دروازے دنیا کے لیے اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمہ سے اپنے آپ مضبوط ملک بنا سکتا ہے اور اس کا جواز پاکستان نے تاریخ کی مشکل ترین سفارت کاری کے ذریعے ایران کو 14 نکات کی صورت میں فراہم بھی کر دیا۔ اب کوئی ہوش مند اور ذی شعور یہ بتا سکتا ہے کہ کیا ایران بذریعہ جنگ یا دھمکی آمیز رویہ سے اپنے مصائب کم یا پابندیاں ختم کرا سکتا ہے؟ اور کیا انقلاب کے بعد جنم لینے والی سفارتی تنہائی اور عرب ممالک کے خدشات مذاکرات اور ذمہ دار ریاست کے کردار کے بغیر ختم ہونا ممکن ہیں؟

یہ ایسے سوالات کہ........

© Daily Urdu (Blogs)