8 February, Dehshat Gardi Aur Aun Ki Jawan Mardi
8 فروری کی ناکام ہڑتال کسی طور گزشتہ انتخابات کو سند جواز فراہم نہیں کرتی جس طرح بے پناہ مقبولیت اقدار و کردار کے بغیر اہلیت ثابت نہیں کرتی۔ المیہ یہ رہا کہ ملک کے دو راہنماوں نے مقبولیت پائی اور شعور کے ابلاغ کا دعوی بھی کیا، ذوالفقار علی بھٹو اور عمران خان۔ مگر انتہائی معذرت کے ساتھ کہ وہ اس شعور سے اپنے لیے حصہ نہ پا سکے۔ بقول مجیب الرحمٰن شامی "ہر دو مقبول راہنما مخالفین کو برداشت کرنے پر آمادہ نہ ہوئے ذوالفقار علی بھٹو مخالفین کو انجام تک پہنچانے پہنچاتے خود وہاں پہنچ گئے"۔
کپتان نے بھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا کہ مقبولیت نے انہیں سیکھنے سکھانے سے آزاد کر دیا۔ خبط عظمت نے انہیں اپنے شعور کو بیداری کا موقع ہی نہ دیا کردار کے غازی تو پہلے ہی نہ تھے سو گفتار پر گزارا رکھا۔ سیاست میں انہوں نے فہم، دانش اور برداشت کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیا اور پھر قیادت کا ورثہ بھی تیار نہ کر سکے جو مشکل حالات میں پارٹی سنبھالتے، جاندار، ٹھوس اور متفقہ فیصلے لیتے اور قیادت کے لیے راستے تلاش مگر اب صورتحال یہ کہ وہ ہر بات اور فیصلہ کے لیے ملاقات کے محتاج جبکہ PTI کی دوسرے درجہ کی قیادت باہمی انتشار کا شکار۔
حکومت نے بہت دیر سے PTI کی اس کمزوری کو بھانپا کہ وہ جو ہمہ وقت احتجاج احتجاج کرتے نہیں تھکتے تھے اب ایک ملاقات کے لیے مجبور تین ماہ بعد وہی PTI جو برس ہا برس سے بات چیت تک پر آمادہ نہ تھی نے حکومتی........
