Khud Ki Pehchan Rab Ki Pehchan
لاکھوں کروڑوں درود و سلام آپ سرکار ﷺ کی ذاتِ اقدس پر۔
کچھ بنیادی سوالات ہیں جو کہ ہر دور میں انسان کو درپیش رہے ہیں جیسے انسان کیا ہے، خدا کیا ہے، یہ کائنات کیا ہے، اِس کائنات کا ربط انسان کے ساتھ کیا ہے، اِس پہ بزرگوں نے درویشوں نے بہت غور و فکر کیا ہے اور ہماری کلاسیکل شاعری کے بنیادی عنوانات بھی یہی رہے ہیں۔
انسان آج بھی اپنے سامنے کھڑے ہوئے اِن سوالات کے جوابات کی کھوج میں ہے اور غور و فکر جاری ہے اور جاری رہے گا، انسان کی تخلیق کا کیا مقصد ہے، انسان خود کون ہے، یہ بہت ہی اہم سوال ہے۔
خود کی پہچان رب کی پہچان ہے، اتنے اہم سوال کا جواب وقت کے درویش حضرت واصف علی واصفؒ نے بہت ہی آسان جملے میں عطا فرما دیا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ خود کی پہچان دراصل اپنی قبر کی پہچان ہے، اِس سے پہلے کہ آپ پر وقتِ نزع آئے اور آپ کے پیارے آپ کو قبر تک چھوڑ آئیں آپ اپنی قبر خود ہی پہچان لیں اور یہ بات دل میں اتر جائے کہ ہم سب کی زندگی بہت مختصر ہے، اِس مختصر سی زندگی میں بہت سے کام کرنے ہیں، زیادہ تر وقت تو رزق کمانے میں گزر جاتا ہے، کاروبار یا نوکری کرنے میں گزر جاتا ہے، زندگی کا تقریباً آدھا حصہ نیند کی نظر ہو جاتا ہے، تو باقی وقت ہی کتنا بچتا ہے کہ حقیقتوں کے بارے میں سوچا جائے یا اِن سے تعلق قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔
اگر سالوں میں گنیں تو یہ چار یا پانچ سال سے زیادہ عرصہ نہیں ہے کہ آپ سچائیوں کے ساتھ تعلق استوار کرنے کی کوشش کریں، عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ عبادات سے ممکن ہے، جو فرائض ہمیں سونپے گئے ہیں، جو دینی احکامات ہیں وہ پورے کرنے ہیں، انہی صبح و شام میں ہماری........
