اردو کا مستقبل۔ایک ذاتی تناظر (4)
سیالکوٹ کینٹ میں مسز میسی کے ڈیسک کرسیوں اور رنگین پردوں والے انگلش میڈیم ادارے سے اڈہ پسروریاں کے ٹاٹ مارکہ پرائمری سکول کو ہجرت کی کہانی شخصی خاکوں کی کتاب ’یار سرائے‘ میں بیان کی جا چکی ہے۔ فی الوقت حاصلِ غزل یہ ہے کہ ابتدا میں اردو کے بغیر فقط انگلش پڑھی تھی، اب انگلش بھُلا کر اردو پر زور لگانا پڑا۔ زبانوں کی مسافت کو پاٹنے میں ایک تو قرآنی قاعدہ کی پیشگی حرف شناسی کام آئی۔ دوسرے، ہمارے ’مسلم لیگی‘ والد کے دو قومی نظریہ سے بھی مدد ملی۔ اِس لئے کہ روزمرہ گفتگو میں وہ ’ادبی دنیا‘ کے ایڈیٹر مولانا صلاح الدین احمد کے اِس قول کا حوالہ تسلسل سے دیا کرتے کہ اردو پڑھو، اردو بولو، اردو لکھو۔ پڑھنے، بولنے میں تو رکاوٹ تھی نہیں، پر میڈیم تبدیل ہو جانے پر تختی کی تحریری مشق کا منظر دُہرا دینا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔”دادی کی رہنمائی میں، جنہیں ہم سب بی جی کہتے، اردو کتاب کے سبق سے فارغ ہو کر گھر کی بیٹھک میں دری پہ پیشہ ور کاتبوں کی طرح بیٹھا ہوں۔ دائیں ہاتھ پہ کریم کی پرانی شیشی پر مبنی دوات ہے جس میں دانے دار سیاہی کی پڑیا کو کلک یا کانے کے قلم کی الٹی سائیڈ سے سرسوں کے ساگ کی طرح گھوٹا گیا ہے۔ بیچ میں چھوٹا سا صُوف یعنی کپڑا جس کا روشنائی کے رچاؤ میں رول واقعی اگلے وقتوں کے صوفیائے کرام جیسا ہے۔۔۔ ابا نے ’الف ب‘ لکھنی دو دن میں سکھا دی تھی۔ اب باری ہے چھوٹے چھوٹے جملے لکھنے کی۔ ”ڈوبا لو“۔ ڈوبا لیتا ہوں۔ ”ہاں بیٹا، الف۔۔۔ آرام سے لکھو۔۔۔ بالکل ٹھیک........
