متاعِ صحافت۔ قابل ِ فخر ”سکوپ“! (2)
مختصراً مختصراً یہ کہ ایسی تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے رات کے پچھلے پہر قریباً دو بجے جب میں نے نوابزادہ نصر اللہ خان کے کمرے کے دروازے کو کھٹکھٹایا تو تھوڑی ہی دیر بعد نوابزادہ صاحب نے ہلکے سے کون کہتے ہوئے اندر سے دروازہ کھولا۔ مجھے دیکھتے ہی ہکا بکا ہو کر کہا۔ آپ”آ جاؤ، بھئی آ جاؤ“، یہاں کیسے آ گئے؟”میں بس حاضر ہو گیا ہوں …… انہوں نے بلا توقف خود ہی بجلی کا ہیٹر اُٹھا کر میرے سامنے رکھ دیا اور دوسری چارپائی پر بیٹھے ہوئے انتہائی شفقت آمیز لہجے میں استفسار کیا۔آپ نے رات کا کھانا کھایا ہوا ہے۔میں نے مختصراً نوابزادہ سعید اللہ خان کے ہاں ٹھہرنے،کھانا کھانے اور وہاں سے ان کی ہدایات پر اُن تک پہنچتے کی رام کہانی سنا دی اور پھر تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد نمازِ فجر پڑھ کر میں نے نوابزادہ نصر اللہ سے اس وقت کے معروضی حالات،مارشل لاء سے پیدا شدہ خطرات، قومی یکجہتی اور ملکی سلامتی کو ممکنہ سنگین حالات، مارشل لاء، حکمرانوں کے عزائم، ملک کے جمہوری مستقبل اور سیاسی جماعتوں پر قدغن کے حوالے سے........
