menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

حق کا راستہ قربانی مانگتا ہے

9 0
yesterday

 شب ِ عاشور،وفا، قربانی، استقامت اور حق پر ڈٹ جانے کی ایسی مثال قائم ہوئی جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے، مید انِ کربلا میں یزیدی لشکر کے نرغے میں گھرے ہوئے امام حسینؓ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور چراغ گل کر دیے، پھر فرمایا کہ یزید کی دشمنی مجھ سے ہے، تم سب آزاد ہو، جو جانا چاہتا ہے چلا جائے،میں تمہیں اجازت دیتا ہوں، میری طرف سے کوئی گلہ نہیں ہوگا۔یہ ایسا موقع تھا جب موت سامنے کھڑی تھی، تلواروں کی جھنکار سنائی دے رہی تھی، بچوں کی پیاس دلوں کو چیر رہی تھی اور صبح ِ عاشور طلوع ہونے والی تھی، ایسے میں دنیاوی مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ لوگ اپنی جان بچا لیتے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ امام کا ایک بھی ساتھی نہ اُٹھا، ہر شخص نے وفا کا ایسا عہد کیا جو رہتی دنیا تک مثال بن گیا،کسی نے کہا کہ اگر مجھے ستر بار قتل کر کے زندہ کیا جائے تب بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، کسی نے کہا کہ ہم آپ کو تنہاء چھوڑ کر خدا کے سامنے کیا جواب دیں گے، کسی نے کہا کہ زندگی تو ایک دن ختم ہونی ہے اگر حق کے لئے قربان ہو جائے تو اس سے بڑی سعادت کیا ہو گی،یہ صرف چند افراد کی وفاداری کا قصہ نہیں تھا بلکہ یہ حق اور باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا، یہ اعلان تھا کہ ظلم کے سامنے سر جھکانا زندگی نہیں بلکہ عزت کے ساتھ حق پر قائم رہنا ہی اصل حیات ہے۔

کربلا کی پوری داستان کا مرکزی کردار صرف شہادت نہیں بلکہ مزاحمت ہے، حضرت امام حسینؓ نے اس وقت کی سب سے بڑی سیاسی اور عسکری طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا، وہ جانتے تھے کہ ان کے پاس فوج ہے نہ وسائل، حکومت ہے نہ........

© Daily Pakistan (Urdu)