menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

   سڑکوں کی کشادگی اور ترقی یافتہ ممالک

11 0
18.01.2026

صوبہ پنجاب اور خصوصاً صوبائی دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر شہر کو خوبصورت اور وسعت دینے کے نام پر توڑ پھوڑ کا طویل سلسلہ جاری ہے۔دہائیوں سے قائم مارکیٹیں اور علاقے مسمار کیے جا رہے ہیں اور ترقیاتی پراجیکٹس کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے پر تیزی سے کام ہو رہا ہے،اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ شہر کی آبادی اور ٹریفک کی نقل و حرکت یہاں کے رہنے والوں کے لئے ایک عذاب بن چکی ہے۔ چند میل کا فاصلہ طے کرنا بسا اوقات طویل وقت لے جاتا ہے جو شدید ذہنی کوفت اور ڈپریشن کا سبب بن جاتا ہے، لاہور میں رہنے و الے جانتے ہیں کہ آج سے چند سال پہلے تک نہ ہی سڑکیں اتنی کشادہ تھیں اور نہ ہی ٹریفک کا اس قدر دباؤ تھا،راستوں کی کشادگی وقت کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور حالات کا تقاضا بھی جو خصوصاً ہمارے ہاں کچھ سالوں کے بعد ناگزیر ہو جاتا ہے،اس حوالے سے یہ بات بھی سامنے ہونا چاہئے کہ ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں کیا وہاں بھی چند سالوں بعد ایسے ہی حالات سے وہاں کے رہنے والوں کو گزرنا پڑتا ہے یا یہ پریکٹس صرف ہمارے ہاں ہی رائج ہے۔ بیرون ممالک سفر کرنے والے پاکستانی جانتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں دہائیوں تک اس کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ترقی یافتہ ممالک میں سڑکوں اور راستوں کی توسیع صرف انجینئرنگ کا مسئلہ نہیں بلکہ قانون، اخلاق اور انسانی وقار کا معاملہ سمجھا جاتا ہے اور یہی چیزیں فرد اور ریاست کے درمیان اعتماد کی بنیاد فراہم........

© Daily Pakistan (Urdu)