menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

سید محمد طیب ایڈووکیٹ

10 1
30.01.2026

پارلیمنٹ کے مُشترکہ اجلاس میں عورتوں ، مردوں ، ٹرانس جینڈر ، بچوں اور کمزور افراد کو گھریلو تشدد سے بچائو ، دادرسی اور بحالی کے لئے The Domestic Violence (Prevention and Protection) Act 2026 منظور کر لیا گیا ہے ۔ اِسکا اِطلاق اسلام آباد کے وفاقی علاقے میں ہو گا جبکہ اِس قانون کا اختیار فیملی کورٹ کو دیا گیا ہے ۔ Domestic Violenceکی تعریف دفعہ 3میں دی گئی ہے جبکہ دفعہ 3(c)میں نفسیاتی اور زبانی تشد د کو بیان کیا گیا ہے ۔ قانون کی دفعہ 4کے مطابق اگر جرم تعزیراتِ پاکستان مجریہ 1860کے زُمرے میں نہ آتا ہو تو گھریلو تشددکی زیادہ سے زیادہ سزا 3سال قید (سادہ) اور کم از کم سزا چھ ماہ ہو گی جبکہ جرمانہ کی شرح زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے اور کم از کم بیس ہزار روپے رکھی گئی ہے جوکہ متاثرہ فرد کو ادا کیا جائے گا۔ دفعہ 5کے مطابق متاثرہ فرد کی جانب سے درخواست دئیے جانے پر عدالت الزام علیہ کو شوکاز جاری کرے گی کہ کیوں نہ اسکے خلاف پروٹیکشن آرڈر جاری کر دیا جائے جبکہ درخواست کا فیصلہ 90دن کے اندر کیا جائے گا۔ دفعہ 6کے مطابق متاثرہ فرد کو shared house-hold میں رہنے کا اختیار دیا گیا ہے چاہے اِسکی گھر میں ملکیت ہو یا نہ ہو۔ دفعہ 7کے مطابق عدالت عبوری حکم جاری کر سکتی ہے ۔ دفعہ 8کے تحت عدالت مسئول علیہ کو متاثرہ فردسے کسی بھی قسم کا رابطہ کرنے سے منع کر سکتی ہے اور اُس سے دُور رہنے کا بھی حکم صادر کر سکتی ہے ۔

اس قانون کی دفعہ 15کے تحت ایک پروٹیکشن کمیٹی متعارف کرائی گئی ہے جسکا کام متاثرہ فرد کو اُسکے حقوق سے آگاہ کرنا ہو گا۔ یہ کمیٹی متاثرہ فرد کا میڈیکل بھی کرائے گی اور محفوظ مقام ڈھونڈ نے میں اُسکی مدد بھی کرے گی اور اگر ضرورت ہو تو قانونی کاروائی کے لئے بھی مدد فراہم کرے گی۔ بادی النظر میں اِس قانون کو بنانے کی ضرورت اِس لیے پیش آئی تاکہ خانگی زندگی کو تحفظ دیا جا سکے۔ بڑا اہم سوال........

© Daily Jang