menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ڈاکٹر حبیب الحق رندھاوا

33 0
25.10.2026

اگرچہ ریت کے حقیر ذرات سے تیارکردہ کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ و موبائل وغیرہ کے ساتھ انسانوں کی صحبت عروج پر ہے۔ تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ یہ ایجاد اور مؤجد کا باہمی تعلق اور وارفتگی ہے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ خالق حقیقی کو اپنی مخلوق سے کس نوع کی محبت ہو گی۔ وہ کیوں ہر وقت اپنی مخلوق کو زیرنظر رکھتا ہے۔ اسکے اعمال و افعال اور نظریات بارے آگاہ رہتا ہے، اس پر اپنی التفاقات جاری رکھتا ہے۔ لیکن شاید انسان اور اے آئی کی باہمی محبت اور تعلق خوئے بد کی ’’نذر‘‘ ہو رہا ہے۔ جو سوشل میڈیا پر توجہ سمیٹنے والوں نے انسان اور اے آئی کے درمیان مہلک جنگوں سے ڈرانا شروع کر دیا ہے۔ جبکہ علومِ انسانی کے ماہرین، جنگی گیمز کے مؤجدین اور کمپیوٹر ماہرین ایسی ممکنات سے انکاری ہیں۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سافٹ ویئرز کا سہارا لے کر مصنوعی ذہانت (AI) انسانی حیات و وسائل کو تباہ کر سکتی ہے، یقیناََ یہ خام خیالی ہے۔

AI کی بیالوجیکل ساخت ایسی نہیں کہ اس کے اندر انسانوں کے برعکس تحفظ ذات، خاندان یا قبیلہ کا احساس موجود ہو۔ نہ اس میںاپنے خاندان، قبیلے کیلئے وسائل اکٹھا کرنے کی حرص و ہوس ہے۔ نہ ہی نسل در نسل اقتدار پر تسلط کے جراثیم موجود ہیں۔ لہٰذا محض اپنی بقایا انسانوں پر تسلط کیلئے لڑائی کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ وہ انسان جس کے اندر ایڈرنالین، ٹیسٹرون، کارٹی سول جیسے خطرناک ہارمونز ہر وقت کارفرما رہتے ہیں جن کی مدد سے انسان دیگر مخلوق کو زیرنگین کرنا چاہتا ہے۔ محض ریت کے ذرات ان عادات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ کہتے ہیں تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ انسانی ساخت کے برعکس جب AI کی ساخت میں حربی خوبیاں موجود نہیں تو پھر باہمی جنگ کیسی؟ اے آئی میں جب انسانوں جیسا کینہ، بغض و عداوت، مخاصمت جیسے جذبات موجود نہیں وہ انسانوں کی طرح طاقت کی بھوکی (Power Hunger) نہیں۔ جاہ و حشمت اس کی کمزوری نہیں تو وہ کسی سے بھی جنگ کیوں کرے گی؟ ہاں البتہ کبھی غلطی سے ناپسندیدہ کمانڈ کی بنا پر کوئی وقتی نقصان ہوتا ہے تو وہ محض حادثاتی ہو سکتا ہے جس کی فوری درستی اور تلافی بھی ممکن ہے، یہ کوئی اعلانِ جنگ نہ ہو گا۔ درحقیقت مصنوعی ذہانت کے عمل کو ایسے ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ دریں صورت سسٹم خود درستی کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ خدانخواستہ اے آئی کبھی زورآوری پر اُتر آئے، مائل بہ نقصان ہو بھی جائے تو اس کا اتالیق انسان فوراً اس کے پاورگرڈز کو منقطع کر دیتا ہے۔

ہارڈویئر کو مفلوج کر سکتا ہے یا پھر ’’سرور‘‘ (Server) کو معطل کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں AIکمپیوٹر ہنگامی طور پر کچھ کرنے سے عاری ہو جاتا ہے۔ اپنے تئیں متبادل بندوبست نہیں کر سکتا۔ نئے کاپر کانوں سے نکال سکتا، پاور بحال کر سکتا ہے، نہ ہی مشین کی مرمت کر سکتا ہے۔ ان تمام اُمور کیلئے وہ اپنے مؤجد و استاد حضرت انسان ہی کا محتاج ہے، تو پھر عداوت کیسی؟

AI اور انسان کے درمیان ساخت اور کارکردگی کے لحاظ سے زمین آسمان کا فرق ہے۔ دریں صورت AIکسی جنگ و جدل کا اعلان بھی نہیں کر سکتی۔ انسانی دماغ 86-ارب نیورون اور 100کھرب کے قریب اعصابی راہ داریوں پر مشتمل ایک پیچیدہ ڈبہ ہے۔ جب کہ مصنوعی ذہانت نیٹ ورک محض مصنوعی اور بناوٹی میٹریل پر مشتمل ہوتا ہے۔........

© Daily Jang