menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

سہیل وڑائچ

29 0
yesterday

ودھائی دیں یا دُہائی دونوں کا موقع ہے، ودھائی اس پر کہ تحریک انصاف ہی کی ایک لیڈر نے اپنی قیادت کی ناکام حکمت عملی کو رہائی، رسائی اوردوائی جسے ہم قافیہ اور مرصع الفاظ میں بیان کر کے ثابت کیا ہے کہ سیاست ناکام ہونے کے باوجود اہل سیاست میں ادبی صلاحیتیں زندہ و تابندہ ہیں۔ دہائی کی مناسبت سیاست کی کمزوری، ناکامی اور قرب المرگی کی وجہ سے ہے۔ دہائی ہے بھئی دہائی ہے۔ اسلئے کہ کہاں سیاست کا وہ عروج کہ مقبولیت پر ناز، قبولیت کو ماننے سے انکار اور تنقیدی رائے سے انحراف اس جماعت کا خاصہ بن گیا تھا اور اب یہ زوال کہ مذاکرات کو رہائی سے شروع کرنا تھا مگر رہائی کی بات کیا کرتے رسائی تک نہ منوا سکے بات آ جا کے بس دوائی تک محدود رہی جو شاید اہل اقتدار کی مجبوری بھی ہے اور فرض بھی ۔ ایک وہ بھی دور تھا کہ انصافیوں کا طوطی بولتا تھا انہیں نہ کوئی مخالف سیاستدان بھاتا تھا نہ کوئی اختلافی رائے اچھی لگتی تھی اور نہ انہیں کوئی جمہوری مشورہ پسند آتا تھا۔ مخالف سیاستدان جیلوںمیں بند تھے اور اختلافی آوازوں کو روکنے کیلئے میڈیا کیخلاف بیانیہ بنایا جاتا تھا کہا جاتا تھا کہ میڈیا کا بزنس ماڈل ٹھیک نہیں ہے کہا جاتا تھا کہ یہ بے مہارآزادی کے قائل ہیں۔ اپوزیشن کو جیلوں میں بند کرنے پر سمجھایا جاتا تھا کہ باریاں بدل جایا کرتی ہیں مگر انہیں سمجھ نہیں آتا تھا، مقتدرہ کیساتھ ایک صفحے پر ہونے کی وجہ سے وہ اسی طرح متکبر ہو گئے تھے جیسے آجکل کی حکومت ہے ۔ بار بار انصافیوں کو مشورہ دیا جاتا تھا وقت بدل جاتا ہے، جب لاد چلے گا بنجارہ تو سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا مگر وہ ماننے پر تیار نہ تھے خیر حکومت میں بیٹھا کوئی بھی حکمران چاہے آج والے ہوں یا گزشتہ کل والے کوئی بھی نہیں سنتا۔ مگر انصافیوں کا گناہ اس سے کہیں زیادہ ہے وہ اسلئے کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ جب حکمرانی سے فارغ ہو کراپوزیشن میں آتی تھیں تو وہ ہمیشہ حکمرانی کے دور کی غلطیوں پر معافی طلب کرتی رہی ہیں جبکہ انصافیوں کو اپنے سوشل میڈیا، اپنے بیاینے اور اپنی مقبولیت پر اسقدر ناز ہے کہ وہ آج تک اپنی کسی غلطی پرمعافی تو کجا، اسے ماننے تک کوتیار نہیں۔ انصافیوں کی اپوزیشن سیاست کی ناکامی کی بڑی وجہ صرف اور صرف اپنے اوپر انحصار ہے ۔وہ نہ صحافی، نہ وکیل نہ تاجر اور نہ انسانی حقوق کے حوالے سے کسی بھی طبقے سے اپنے ماضی کے رویےپر معذرت خواہ ہیں اور نہ ہی وہ کسی کی حمایت کے خواستگار ہیں اور اگر کوئی خلوص نیت سے بھول چوک سے انکے کسی موقف کی حمایت کر دے تو اسے اوئے اوئے کر کے اور ہوٹنگ کر کے اپنی صفوں سے دور رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کل جو انہیں پھر سے اقتدار ملنا ہے یہ اس میں کہیں حصہ دار نہ بن جائے۔ واہ رہے واہ اے اونٹ تیری کون سے کل سیدھی؟

مقبولیت کا نشہ عروج پر تھا تو قبولیت کی طرف توجہ دلائی تھی اور انصافیوں سے گالیاں کھائی تھیں مگر آج کی صورتحال یہ ہے کہ قبولیت نے تاحال مقبولیت کو کھا لیا ہے تنقیدی رائے پر ٹوٹ پڑنا شروع میں تو بہت کامیاب رہا مگر اب انصافی ہر کس و ناکس، حامی مخالف، سول و ملٹری، صحافی اور سیاستدان ہر ایک پر اتنا بہتان اور جھوٹ باندھ چکے ہیں کہ وقت کیساتھ دلوں میں مقبولیت کے باوجود انصافی بیاینے پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں انصافیوں کو سوشل میڈیا کی طاقت پر فخر تھا اور اسے اپنا سب سے بڑا قیمتی اثاثہ اور ہتھیار قرار دیتے تھے سوشل میڈیا، ہر نئی اور ان دیکھی طاقت کی طرح ایک ایسا فرینکسٹائن یا جن ہے جو بوتل کے اندر بند ہو تو مالک کا اثاثہ اور دولت ہوتی ہے مگر بوتل سے باہر نکل کر جن ہو یا........

© Daily Jang