menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

اسد مفتی

22 0
friday

آج میں آپ سے ہلکی پھلکی باتیں کرنا چاہتا ہوں تاکہ میں پھر سے اپنی جون میں واپس آ سکوں۔ ان ہلکی پھلکی باتوں میں بھی آنکھ والوں کیلئے عبرت کے لاکھوں درس ہیں اور جو عبرت نہ پکڑنا چاہے اُن کا ہاتھ اللہ پکڑے۔

ایک ملک کے صدر صاحب اپنے فیصلے منوانے کیلئے الٹے سیدھے دلائل دیا کرتے تھے ایک دن ان کے مشیر نے آخر ان سے کہہ ہی دیا۔

جناب صدر مملکت: آپ اپنا فیصلہ دیا کریں اس کے حق میں دلائل نہ دیا کریں۔’’کیوں؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔’’آپ کا فیصلہ مان لیا جاتا ہے لیکن آپ کے دلائل سن کر سب ہنس دیتے ہیں۔‘‘

لاہور کا ایک شاعر جو ملازمت کی وجہ سے دور کسی شہر میں اکیلا رہتا تھا ایک روز اسے لاہور سے ایک دوست کا خط ملا جس میں اس شاعر کو اطلاع دی گئی تھی کہ تمہاری بیوی ایک ہفتے سے لاپتہ ہے اس شاعر نے فوراً اپنے دوست کو خط کے جواب میں لکھا ’’مجھے واپسی ڈاک اطلاع دو کہ میری بیوی واقعی لاپتا ہو گئی ہے یا تم نے میرا دل خوش کرنےکیلئے لکھ دیا ہے‘‘

لاہور کا ایک ادیب کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا تھا دوستوں کے اصرار پر آخر ایک روز وہ ماہر نفسیات کے پاس پہنچا اور کہا ’’میں نے اتنے گناہ کیے ہیں کہ میرا ضمیر مجھے لعنت ملامت کرتا رہتا ہے میں بہت پریشان ہوں میری مدد کیجئے‘‘ـ ماہر نفسیات نے پوچھا آپ یہ چاہتے ہیں کہ گناہ ترک کرنےکیلئے آپ کی قوت ارادی مضبوط ہو جائے؟ ادیب نے کہا’’نہیں: میں چاہتا ہوں کہ میرا ضمیر کمزور ہو جائے‘‘۔ پاک ٹی ہاؤس میں ایک معروف شاعر بتا رہا تھاـ’’ دوسرے بچے کی پیدائش سے چند روز پہلے میں نے اپنے چھ سالہ بیٹے سے کہاـ گھر میں تمہارا جی بہلانے کیلئے ایک بچہ آنے والا ہے چند روز میں تمہاری ممی ہسپتال جائے گی اور اسے وہاں سے لے آئے گی‘‘بیٹے نے باپ کی صورت دیکھتے ہوئے کہا ’’ممی ٹھیک کہتی ہیں کہ آپ کو بالکل عقل نہیں ہے بچہ تو کئی ماہ سے انکے پیٹ میں پل رہا ہے‘‘ـ

ممبئی کی ایک مشہور ومعروف رائیٹر ڈائریکٹر سے میری ملاقات دہلی میں ہوئی، باتوں باتوں میں اچھے انسان کی تعریف کرتے ہوئے کہنے لگا ’’اس میں دوسری خوبیوں کے علاوہ شرافت بہرحال ہونی چاہیے‘‘۔ اس سلسلے میں اس نے خود اپنی مثال پیش کرتے ہوئے کہا ’’ایک بار ممبئی کے فائیو اسٹار ہوٹل میں اپنے وقتوں کی نمبر ون مشہور معروف ہیروین سے ملنے گیاـ اسے اپنے کمرے میں نہ پا کر میں نے غلطی سے باتھ روم کا دروازہ کھول دیا، میں نے فوراً اسے بتایا کہ میں نے یہ دروازہ غلطی سے کھولا ہے اور چونکہ میں ایک شریف آدمی تھا اسی لیے وہاں پورے دس منٹ تک کھڑا اپنی غلطی کی معافی مانگتا رہا‘‘ـ

کراچی کا ایک شاعر جو اپنی شکل و صورت کے ساتھ ساتھ عجیب و غریب عادتوں کی وجہ سے مشہور ہے ٹی ہاؤس میں مجھے کافی دیر سے اپنی فضول باتوں سے بور کر رہا تھا باتوں کے دوران اپنے خاندانی قصے سناتے ہو اس نے کہا۔

’’کراچی میں خدا نے میری ماں کے ساتھ بڑا عجیب مذاق کیا‘‘۔’’کراچی میں؟‘‘ میں نے بور ہوتے ہوئے کہاـ ’’ہاں کراچی میں‘‘۔ـ ’’میں سمجھتا رہا ہوں کہ تم لاہور میں پیدا ہوئے تھے‘‘ـ

لاہور........

© Daily Jang