menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

یاسر پیر زادہ

10 0
latest

فرمانبردار شاہ محکمۂ تعلیم میں کلرک ہے اور اِسم با مسمیٰ ہے۔ تنخواہ اتنی کہ مہینے کی بیس تاریخ کو گھر میں خاموشی چھا جاتی ہے اور صبر ایسا کہ جس کا میٹھا پھل خریدنے کی وہ استطاعت نہیں رکھتا۔ مگر فرمانبردار شاہ کے ماتھے پر شکن نہیں آتی، وہ حکومت پر غیر متزلزل ایمان رکھتا ہے، وہ صِدقِ دل سے سمجھتا ہے کہ عوام کے نمائندے نہ صرف بااختیار ہیں بلکہ وہ عوم کے غم میں دن رات گھُل رہے ہیں لہٰذا ہمیں اُنکی نیک نیتی پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ پٹرول سستا ہو جائے تو کہتا ہے کہ حکومت کو عوام کا خیال ہے، مہنگا ہو جائے تو کہتا ہے کہ عوام کے وسیع تر مفاد میں یہ مشکل فیصلہ کیا گیا ہے۔ کوئی نیا جہاز خریدا جائے تو کہتا ہے کہ صوبے کی ضرورت تھی اور کہیں سے تیس گاڑیوں کا قافلہ ہٹو بچو کی صدائیں لگاتا گزرے تو کہے گا کہ یہ سیکورٹی کا تقاضا ہے۔ تنخواہوں میں اضافہ نہ ہو تو وہ سر ہلا کر کہتا ہے کہ خزانہ خالی ہے تو حکومت کیا کرے اور اگر اراکین اسمبلی کی تنخواہیں بڑھ جائیں تو دنیا بھر کی مثالیں تلاش کرکے اُنکا ایسا دفاع کرتا ہےکہ حکومتی وزرا بھی شرما جائیں۔ سرکاری پریس ریلیز میں حکومتی فیصلوں کے وہ فضائل بیان نہیں کیے جاتے جو فرمانبردار شاہ کے ذہن میں آتے ہیں اور جن کے بارے میں سوچ کر وہ خود کو مطمئن کرتا رہتا ہے۔

میں نے ایک بار اس سے کہا کہ شاہ صاحب، آپ ہر حکومت کی ایسے تابعداری کرتے ہیں جیسے آپ نے کوئی عہدہ یا تمغہ لینا ہو جبکہ ایسی کوئی بات بھی نہیں، پھر آپ حکومتی اہلکاروں پر تنقید کیوں نہیں کرتے۔ شاہ صاحب نے ایک جملے میں بات سمیٹ دی ”حکمرانوں کی اطاعت فرض ہے“ فُل اسٹاپ۔ فرمانبردار شاہ جیسا شہری ہر ریاست کا خواب ہے جو چراغ لیکر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ ایسا شخص جو ہر حال میں حکومت پر اعتماد کرے، صبر کرے، قطار میں لگے، ٹیکس دے، ووٹ ڈالے اور ہر فیصلے کو حسنِ ظن کے ترازو میں تولے اور خندہ پیشانی سے قبول کرے۔ اور ہاں فرمانبردار شاہ صرف پی ٹی وی دیکھتا ہے اور اخبار میں اے پی پی کی خبریں پڑھتا ہے۔

پچھلے مہینے فرمانبردار شاہ میرے پاس آیا۔ ہاتھ میں بجلی کا بل تھا۔ چہرے پر وہی اطمینان مگر آنکھوں میں ایک ہلکی سی الجھن۔ بولا، مجھے شکایت نہیں ہے، بس یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ بجلی کی قیمت کا تعین کیسے ہوتا ہے۔ میں نے کہا، نیپرا ٹیرف بناتا ہے، حکومت اُس ٹیرف کو سرکاری طور پر نافذ کرتی ہے اور ڈسٹربیوشن کمپنیاں تمہارا میٹر دیکھ کر بل بھیجتی ہیں۔ ”لیکن سننے میں آ رہا ہے کہ آئندہ صارفین کمپنیوں سے براہ راست معاملہ طے کریں گے، حکومت اِس سارے چکر سے باہر نکل جائیگی؟“ اُس نے پوچھا۔ ”ہاں، میں نے بھی کچھ ایسا ہی سنا ہے۔“ بولا ”اچھا، تو پھر اگلے الیکشن میں مَیں ووٹ کس کو دوں؟“ فرمانبردار شاہ کے سوال نے مجھے چکرا دیا۔ یہ سوال کسی باغی کا نہیں تھا۔ یہ سوال ایک فرمانبردار شہری کا تھا جو اپنی فرمانبرداری کا صحیح پتہ معلوم کرنا چاہتا تھا۔ اور میرے پاس اِسکے سوال کا جواب نہیں تھا۔

ایک عام پاکستانی کی زندگی کن فیصلوں سے بنتی اور بگڑتی ہے؟ بجلی کا ٹیرف، گیس کا نرخ، پٹرول کی قیمت، شرحِ سود، روپے کی قدر، دوا کی قیمت اور کبھی کبھار عدالت کا کوئی ایسا فیصلہ جو راتوں رات پوری صنعت کا نقشہ بدل دے۔گیس اوگرا کے دائرے میں ہے۔ شرحِ سود اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں طے ہوتی ہے۔ ٹیکسوں کا بڑا حصہ اُس پروگرام کا نتیجہ ہوتا ہے جس پر آئی ایم ایف کے ساتھ دستخط ہو چکے ہوتے ہیں۔ موبائل اور انٹرنیٹ پی ٹی اے کے پاس ہے۔ اور جو کچھ اِن سب سے بچ جائے، وہ کسی نہ کسی اپیلٹ ٹریبونل یا سپریم کورٹ کی فائل میں پڑا ہوتا ہے۔ اِن اداروں کے کتنے لوگ عوام کے........

© Daily Jang