menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

اعظم ملک

8 0
latest

بجٹ کا دن تھا۔ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں گہما گہمی تھی۔ حکومتی اراکین اپنی نشستوں پر مطمئن دکھائی دے رہے تھے اپوزیشن اپنی تنقید کی تیاری کر رہی تھی اور وزیر خزانہ آنے والے مالی سال کی ترجیحات بیان کر رہے تھے۔ اعداد و شمار کی ایک لمبی فہرست تھی ترقیاتی منصوبے تھے۔سب کچھ منظم اور پُرامید دکھائی دے رہا تھامگر اسی لمحے اسمبلی سے دور ایک عام گھر میں ایک اور قسم کا بجٹ زیر بحث تھا، ایسا بجٹ جس میں اربوں اور کھربوں کا ذکر نہیں تھا بلکہ آٹے چینی بجلی گیس کرائے دوا اور اسکول فیس کا حساب تھا۔اس گھر کے سربراہ نے شام کو دفتر سے واپسی پر بجلی کا بل میز پر رکھا اور خاموش ہو گیا،کچھ دیر بعد گفتگو شروع ہوئی تو موضوع بجٹ نہیں بلکہ اخراجات تھے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ حکومت نے کس شعبےکیلئے کتنے ارب مختص کیے ہیں۔ سوال یہ تھا کہ اس ماہ اور کون سی ضرورت مؤخر کی جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومی بجٹ اور گھریلو بجٹ ایک دوسرے سے الگ دکھائی دیتے ہیں۔ہمارے ہاں ہر سال بجٹ آتا ہے اور امیدوں کا ایک نیا باب بھی کھلتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ترقی کی رفتار بڑھے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہونگے، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری ہوگی اور عوام کو سہولتیں میسر آئیں گی۔ عام آدمی کی زندگی میں مگر بجٹ کی کامیابی کا پیمانہ کچھ اور ہوتا ہے۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ اسکی زندگی میں کیا بدلا ہے۔ ایک مزدور صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے شام کو واپسی پر وہ بجٹ تقریر کے اہم نکات نہیں دہراتا، وہ صرف یہ سوچتاہے کہ آج کی کمائی سے گھر کا خرچ پورا ہوگا یا نہیں۔ اسے معاشی اصطلاحات سے زیادہ اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ بچوں کے لیے دودھ آئے گا یا نہیں، گیس کا بل وقت پر جمع ہوگا یا نہیں اور اگر کوئی بیمار ہو گیا تو علاج کیسے ہو گا۔غریب آدمی کیلئے بجٹ شاید ایک خبر سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ اس نے اپنی زندگی میں کئی بجٹ آتے اور جاتے دیکھے ہیں۔ اس کیلئے اصل سوال یہ نہیں کہ بجٹ کا حجم کتنا ہے بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کے گھر کا چولہا نسبتاً آسانی سے جل سکے گا، بچوں کیلئے تعلیم کا حصول کچھ آسان ہوگا،علاج اسکی پہنچ میں رہے گی۔ اگر ان سوالوں کے جواب میں بہتری محسوس نہ ہو تو بجٹ کی ضخیم دستاویز اس کیلئے زیادہ معنی نہیں رکھتی۔اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ صورتحال سفید پوش طبقے کی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نہ خود کو غریب کہتا ہے اور نہ امیر، بس عزت کے ساتھ جینے کی کوشش کرتا ہے، مہنگائی کا سب سے خاموش حملہ اسی طبقے پر ہوتا ہے۔ یہ احتجاج نہیں کرتا مگر آہستہ آہستہ اپنی ضروریات کم کرتا جاتا ہے، بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کے پاس جانے میں تاخیر کرتا ہے اور بچوں کی خواہشات کو سمجھا بجھا کر ٹال دیتا ہے۔ باہر سے سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے لیکن اندر ایک مسلسل جدوجہد جاری رہتی ہے۔شاید غربت کی سب سے تکلیف دہ شکل وہ نہیں جو نظر آ جاتی ہے بلکہ وہ ہے جو خاموشی سے انسان کے خواب چھین لیتی ہے۔ جب ایک نوجوان تعلیم جاری رکھنے کے بجائے گھر کے اخراجات اٹھانے کیلئے ملازمت پر مجبور ہو جائے،یا جب ایک ماں اپنے علاج کو بچوں کی ضروریات پر قربان کر دے تو یہ صرف معاشی مسائل نہیں رہتے بلکہ........

© Daily Jang