عرفان اطہر قاضی
اٹھارہ بیس برس کی طویل پابندی کے بعد جب بسنت نے ایک بار پھر سانس لی تو یوں محسوس ہوا جیسے لاہور نے برسوں بعد مسکرا کر آنکھیں کھولی ہوں۔ چھتوں پر چڑھتے لوگ، گلیوں میں بکھرا پیلا رنگ اور فضا میں وہی ”بوکاٹا“ کا پرانا شور، جیسے شہر خود اپنے ماضی سے گلے مل رہا ہو، یہ صرف پتنگ بازی کا نہیں بلکہ اجتماعی نفسیاتی بحالی کا جشن تھا ،یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس میں خوف، حادثات اور پابندیوں کی یادیں پیچھے رہ گئیں اور زندگی نے ایک بار پھر اپنی ضد دکھا دی۔ طویل پابندی کے بعد جب اس شہر کے آسمان پر دوبارہ پتنگیں دکھائی دیں تو یہ محض رنگوں کا منظر نہیں بلکہ ہماری اجتماعی نفسیاتی کیفیت کا کھلا اظہار تھا۔ لاہورنے ثابت کیا کہ کچھ روایتیں ریاستی فیصلوں، انتظامی پابندیوں اور وقت کی گرد کے باوجود زندہ رہتی ہیں ، بسنت کی واپسی دراصل اس شہر کی خوب صورت یادوں کی واپسی تھی، ایسی یادیں جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔ بسنت پر لاہوریوں کا روایتی جوش و خروش ویسا ہی تھا جیسا بزرگوں کے قصوں کہانیوں میں سنایا جاتا رہا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اب چھتوں پر صرف پرانے لاہوریئے ہی نہیں تھے بلکہ جین زی بھی موجود تھی، جس نے پابندی کے بعد بسنت کو کبھی براہ راست نہیں دیکھا۔ ان کیلئے بسنت کسی ذاتی تجربے کے بجائے ایک متنازع حوالہ تھی جسے وہ خبروں، حادثات کی رپورٹس یا سوشل میڈیا کلپس میں ہی دیکھتی رہی۔ اس نسل کے ذہن میں بسنت ایک سوالیہ نشان تھی، کیا یہ تہوار واقعی خوشی کی علامت تھا یا صرف خطرات کی ایک یاد۔ جب پچیس برس بعد بسنت نے دوبارہ سانس لی تو دراصل یہی سوال عملی تجربے میں بدل گیا۔ جین زی اور ملینیئز کے درمیان بسنت ایک خاموش مگر طاقتور رابطہ بن گئی ایک طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے بسنت کے عروج کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، جن کیلئے پتنگ کٹنا محض کھیل نہیں بلکہ انا کا مسئلہ ہوا کرتا تھا، دوسری طرف وہ نوجوان تھے جو حفاظت ،ماحول اور شہری نظم و ضبط کے سوالات کے ساتھ پروان چڑھے، یہی فرق بسنت کے دن سیکھنے اور سکھانے کا خوب صورت ذریعہ بن گیا، ملینیئز، جین زی........
