menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

وفاق، صوبے اور دریا

13 0
yesterday

پاکستان میں شاید ہی کوئی بڑا بحران ایسا ہو جس کی نشاندہی نہ ہوچکی ہو۔ مسئلہ پانی کا ہو، صوبائی انتظام کا، وسائل کی تقسیم کا، شہری سہولتوں کا یا ریاست اور شہری کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کا، ہمیں خرابی کا احساس عموماً بہت پہلے ہوجاتا ہے۔ اصل مشکل وہاں شروع ہوتی ہے جہاں اس احساس کو ادارہ جاتی سانچے میں ڈھالنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم بحران کو پہچان لیتے ہیں، مگر اپنے اداروں کو اس کے مطابق بدل نہیں پاتے۔ آج وفاقی سطح پر نئے انتظامی یونٹوں کی ضرورت پر بحث ہورہی ہے۔ دلیل یہ ہے کہ موجودہ صوبائی نقشہ بدلتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ، انتظامی ضروریات اور ریاستی خدمات کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں رہا۔ لیکن نقشہ بدلنا صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے کا نام نہیں۔ اس کے ساتھ اختیارات، وسائل، نمائندگی، سیاسی اثرو رسوخ اور آئینی بندوبست بھی جڑے ہوتے ہیں۔ چنانچہ جس نظام کو تبدیل کرنا مقصود ہو، تبدیلی کے لیے اسی نظام کے اندر سے راستہ نکالنا پڑتا ہے۔آئین پاکستان صوبائی حدود کو معمولی انتظامی فیصلے کی حیثیت نہیں دیتا۔ کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی ایک ایسا معاملہ ہے جس کے لیے پیچیدہ آئینی عمل درکار ہے۔ یوں انتظامی ضرورت اور آئینی ساخت کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہوجاتا ہے۔........

© Daily 92 Roznama