دفاعی معاہدہ: امکانات، اندیشے اور تاریخ کا سبق!
دفاعی معاہدہ: امکانات، اندیشے اور تاریخ کا سبق!
’مکہ دفاعی معاہدے‘ پر ڈھیروں لکھا بولا جا چکا ہے۔ قوموں کے مابین تعاون کا کوئی راستہ کھلے، اس کا خیر مقدم کیا جاناچاہیے۔ خود ہمارے ہاںایسی کسی بھی پیش رفت کی مخالفت محض اس وجہ سے نہیں کی جا نی چاہیئے کہ معاہدہ ایک ایسی حکومت کے دور میں ہوا ہے جو داخلی طور پر غیر مقبول ہے۔تاہم معاہدے کے دور رس اثرات کے تجزیئے کو بھی محض مخالفت برائے مخالفت کے زمرے میں نہیں لیا جانا چاہیئے۔ ابھی تک معاہدہ ایک اعلامیئے کی شکل میں ہے۔ ا س اعلامیئے کی کلیدی شق کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہوا تو اسے تینوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ باقاعدہ معاہدے میں اس شق کی وضاحت کیسے کی جاتی ہے۔ یا کہ سِرے سے کی ہی نہیںجاتی! سوال یہ ہے کہ کیا کسی ایک رکن ملک پر حملے کی صورت میں متاثرہ رکن کی درخواست پر دوسرے ممالک کے لئے عملاََ شرکت لازمی ہوگی؟ یا کہ اخلاقی، سفارتی یا مالی مدد امداد ہی کافی تصور کی جائے گی؟ تینوں رکن ممالک میں سے اس وقت صرف ترکی ہے جسے کوئی عملی جارحیت درپیش نہیں۔ سعودی عرب کو خطے میں ایرانی میزائلوں اور یمن کے عسکریت پسندوں کی مسلح کاروائیوں کا سامنا ہے۔پاکستان اس وقت افغانستان کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے۔ افغانستان کا’جوہری اثاثہ ‘ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد ہیں، جنہیں وہ پاکستان کے خلاف کھلم کھلا استعمال کر رہا ہے۔ بلوچستان میں ریاستی عملداری کو محدود کردینے والی بی ایل اے کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ معاہدے کے نافذالعمل ہو جانے کے بعدمتاثرہ فریق کی سلامتی کے باب میں دوسرے فریقین کے طرزِ عمل........
