بھٹ شاہ کا مکیں
ایک صوفی ، درویش اور شاعرکی حیثیت سے شاہ عبداللطیف بھٹائی کو سندھ میں ایک لازوال مقام حاصل ہے۔ یہی سبب ہے کہ سندھ کی سماجی اور ثقافتی تاریخ شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے ذکر کے بغیرمکمل ہو ہی نہیں سکتی۔ تصوف،مذہبی رواداری ، محبت اور خیرسگالی سندھ کی بنیادی شناخت ہیں ۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی ،سچل سرمست، لال شہباز قلندر اور شاہ عنایت نے جس کی آبیاری کی ہے ۔ اس شناخت میں تصوف سے پھوٹتی مذہبی رواداری ، عشق و محبت کے بھید بھائو ، ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت اور دھرتی سے محبت نمایاں ہے۔ ’’ جولاہے تو ( دلوں کو) جوڑنا جانتے ہیں ،توڑنا نہیں ‘‘ شاہ لطیف سے یہ منسوب قول ان کی فکری توانائی اور سماج میں محنت کش طبقہ کی عظمت کے اعتراف کی دلیل ہے ۔ بھٹ ،سندھی زبان میں ٹیلے کو کہتے ہیں ۔ہالہ ( حیدر آباد کے نزدیک سندھ کا ایک چھوٹا شہر ) کے باہر موجود ایک چھوٹے سے ٹیلے کو شاہ عبد اللطیف نے اپنا مستقل مسکن بنالیا تھا ۔ جس کے باعث انہیں بھٹائی یعنی ٹیلے پر رہنے والا کہا جانے لگا جو تواتر استعمال سے ان کے نام کا مستقل جزو بن گیا ۔ ایچ۔ ٹی ۔سورلے(H, T, SORLEY ) نے اپنی کتاب ’’شاہ عبداللطیف آف بھٹ ‘‘ کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ’’ خیالی ادب کی وسیع قلمرو میں شاہ عبدا للطیف بھٹائی کی صوفیانہ شاعری کا مجموعہ ’ شاہ جو رسالو ‘ تن تنہا........
