فلسطین کا دکھ اور ادب کا قرض
فلسطین کا دکھ اور ادب کا قرض
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
’’غزہ میں انسانیت پر قیامت بیت گئی لیکن ہمارا ادیب اور شاعر اس سے بالعموم لاتعلق سا رہا۔ کوئی نظم لکھی گئی نہ کوئی نوحہ بلند ہوا، کوئی فسانہ لکھا جاسکا، نہ کوئی کہانی۔ دیوارِ دل سے یہ سوال آن لگا کہ ہمارے شاعر اور ادیب کہاں ہیں؟ وہ اپنے عہد کے اتنے بڑے المیے سے اس حد تک لاتعلق کیوں ہیں؟ کیا ادب اپنے گرد و پیش سے اس حد تک لاتعلق ہوسکتا ہے؟‘‘ یہ الفاظ جناب آصف محمود کے ہیں جو انھوں نے فلسطین پر اپنی کہانیوں کے مجموعے کے مقدمے میں لکھے ہیں۔ آصف محمود قانون دان بھی ہیں اور انگریزی ادب میں ایم اے بھی کیا ہے۔ وکالت بھی کرتے ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ نجی ٹی وی پر ٹاک شو کے میزبان بھی ہیں۔ اردو اور انگریزی میں باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی تعلقات، سیاست اور سماج پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ کشمیر اور فلسطین پر بین الاقوامی قانون کے تناظر میں تحقیقی کتابیں خصوصاً قابلِ ذکر ہیں۔ آپ ایک صاحبِ طرز نثر نگار ہیں۔ عام فہم اسلوب میں بہت مؤثر اور بلیغ نثر لکھتے ہیں۔ شعر وادب سے خصوصی شغف کی وجہ سے آپ کے کالموں اور تحقیقی کتابوں میں بھی ادبی چاشنی ہوتی ہے۔ غزہ میں انسانی تاریخ کی بد ترین نسل کشی پر پاکستان میں جن چند لوگوں نے مسلسل لکھا اور بہت مؤثر لکھا، ان میں آپ کا نام سرِ فہرست ہے۔ فلسطین پر اپنی تحقیقی کتاب میں آپ نے قانونی سوالات کا تجزیہ کرتے ہوئے بہت سی ایسی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ہے جو پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ہاں ’پڑھے کم لکھے زیادہ‘ لوگوں کی وجہ سے رائج ہوگئی ہیں، جیسے یہ بات کہ فلسطینیوں نے تو اپنی زمینیں........
