تیل کی سپلائی میں سعودی تعاون کا عزم
تیل کی سپلائی میں سعودی تعاون کا عزم
سعودی عرب نے خطہ کی صورتحال اور تیل کی سپلائی پر ہنگامی ضرورت کے پیش نظر پاکستان سے بھر پور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ایران امریکہ جنگ کے باعث ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی ہے جس سے خطہ کی تیل کی 80فیصد تک ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ اگر جنگ طول پکڑتی ہے خطہ کے بیشتر ممالک کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس خدشے کو یکسر نظرانداز کرنا اس لئے بھی ممکن نہیں کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے محض تین دن بعد ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو گیا ہے اور اگر بندش جاری رہتی ہے تو خام تیل کی قیمت 100ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کی ہچکولے کھاتی معیشت کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ ان حالات میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو بحرہ احمر میں واقع بندرگاہ یانبو سے تیل کی سپلائی میں ترجیح کی یقین دہانی کسی نعمت سے کم نہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کا مسئلہ تیل کی سپلائی کی بحالی سے زیادہ قیمتوں میں اضافہ ہے اگر تیل کے نرخ 100ڈالر سے تجاوز کرتے ہیں تو پاکستان کی معیشت کا سنبھلنا مشکل ہو گا۔ بہتر ہو گا حکومت سعودی عرب سے ارزاں نرخوں تیل کے حصول کی کوشش کے ساتھ ایران سے تیل کے حصول کی کوشش تیز کرے تاکہ مستقبل میں بحرانی صورتحال سے بچا جا سکے۔
