menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Islam Ki Siasi Tabeer

32 0
31.03.2026

مسلم دنیا کو اسلام کی سیاسی تعبیر کی ضرورت کیونکر پڑی۔۔ اس سوال کا جواب بہت دلچسپ ہے۔۔ اسلام کی سیاسی تعبیر ایک خاص طرح کے سیاسی و سماجی حالات کی پیدوار تھی۔۔ یہ حالات بیسویں صدی کے شروع میں مسلم دنیا کے جس جس خطے میں پیدا ہوئے وہاں سے سیاسی اسلام کی داعی تحریکیں ایک آندھی کی طرح اٹھیں اور اسلام کی تمام روایتی تعبیروں کو اپنے ساتھ اڑا کر لے گئیں مگر جب آندھی چھٹی تو قدیم اور فرسودہ تعبیروں کے آثار تو پھر بھی موجود تھے مگر سیاسی تعبیر ریت کے تنکوں کی مانند بکھر کر ہوا میں ہی غائب ہوگئی۔۔

بیسیوں صدی کے اوائل مسلمانوں کے سیاسی ڈھانچے کی توڑ پھوڑ کا دور تھا۔۔ ہند میں مغل کھڈے لائن لگا دئیے گئے اور وارثانِ سلطنت مغلیہ کے سر طشت میں پرو کر ہند کے فرمانروا کو پیش کیئے جا چکے تھے۔۔ ادھر مرد بیمار سلطنت عثمانیہ فرنگی کنیولے پر لگا تھا۔۔ مشرق وسطی میں بھی حالاتِ خاصے ماڑے تھے۔۔ عرب سلطنت عثمانیہ کے آگے آنکھوں کو زمین کے بجائے آسمان پر لگائے بیٹھے تھی۔۔ خلافت کی بوڑھی ہڈیاں عربوں کو لگام دینے سے قاصر تھیں۔۔ عرب بھی خلافت کے مذہبی تشخص سے نکل کر قومیتی تشخص بنانے کی تیاری میں تھے۔۔

ادھر برصغیر میں بھی مغلوں کے بعد سے مسلمان نصف صدی تک تو کلچرل شاک سے باہر نہیں نکلے تھے۔۔ انھیں لگتا تھا۔۔ ابھی دہلی کے لال قلعے پر فضائے بدر پیدا ہونے والی ہے اور فرشتے قطار اندر قطار اتر کر ان کی نصرت کرنے والے ہیں۔۔ سرسید احمد خان کبھی کبھی ان مسلمانوں کو بیچ بیج میں اٹھانے کے لیے الارم لگا دیتے جو اکثر کارگر نہ ہوتا۔۔

ادھر ابوالکلام آزاد کی ہجرت تحریک، تحریک خلافت بھی ناکام ہوگئیں۔۔ مغلوں کے بعد مسلمانان ہند کا آخری سیاسی سہارا سلطنت عثمانیہ ملاح سمیت غرقاب ہوگیا۔۔

یہ وقت تقاضا کر رہا تھا ایک نئی تعبیر اسلام کا جو کم ازکم حقیقت میں نہ سہی کم از کم تصوراتی دنیا میں مسلمانوں کو ایک سیاسی سہارا دے سکے۔۔ پھر سہارے کی تعمیر و ترقی کے لیئے سریا سمینٹ کا انتظام شروع ہوا۔۔ شٹرنگ مصر کے امام حسن البنا نے باندھی۔۔ نظریاتی سریا سمینٹ کا انتظام ہند کے سید ابوالاعلیٰ........

© Daily Urdu