Zameen Se Khurche Gaye Tareekh Mein Mehfooz Qasbay
زمین سے کھرچے گئے تاریخ میں محفوظ قصبے
اسرائیل غالباً واحد ریاست ہے جس نے اپنی بین الاقوامی سرحدیں متعین نہیں کیں تاکہ جب موقع ملے آس پاس کے علاقے ہڑپنے میں آسانی ہو۔ حالانکہ اقوامِ متحدہ نے دسمبر انیس سو سینتالیس میں متحدہ فلسطین کا چھپن فیصد حصہ دس فیصد یہودی اقلیت کو اور چوالیس فیصد رقبہ نوے فیصد فلسطینی اکثریت کو الاٹ کیا۔ مگر چودہ مئی انیس سو اڑتالیس کو اسرائیل نے اپنی باضابطہ پیدائش کے بعد اگلے پانچ ماہ میں لاکھوں فلسطینیوں کو گھروں سے دھکیل کر زیرِ تسلط علاقے کو چھپن سے اٹھتر فیصد تک پہنچا دیا۔ جو بائیس فیصد زمین فلسطینیوں کے پاس بچی (غزہ اور مغربی کنارہ) اس پر بھی انیس برس بعد (جون انیس سو سڑسٹھ) قبضہ کر لیا گیا۔
آج اس بچے کھچے بائیس فیصد کو اگر سو فیصد تصور کر لیا جائے تو اس سو کا بھی محض اٹھارہ فیصد فلسطینیوں کے قبضے میں رہ گیا ہے اور وہ بھی مسلح یہودی آبادکار اور فوج مل کے فلسطینیوں سے چھین رہے ہیں۔ (مجموعی طور پر اس وقت غزہ کا چھپن فیصد اور مغربی کنارے کا ساٹھ فیصد رقبہ اسرائیل کے براہِ راست فوجی قبضے میں ہے)۔
اسرائیل صرف علاقے ہی نہیں نگلتا بلکہ ان علاقوں کی تاریخ اور جغرافیائی شناخت پر بھی بلڈوزر چلاتا ہے۔ بیسیوں قدیم دیہاتوں اور قصبوں کا وجود مٹ چکا ہے اور سیکڑوں قدیم عرب نام عبرانی ناموں سے بدل دیے گئے ہیں تاکہ اسکولی بچوں کو بس اتنا یاد کروایا جا سکے کہ یہودیوں کی آمد سے پہلے یہ خطہ خالی تھا اور اس بیابان کو دراصل ہمارے یہودی اجداد نے........
