Wo Haal Hai Ke Andar Se Ke Bahir Hai Bayan Se
وہ حال ہے اندر سے کہ باہر ہے بیاں سے
یہ تو سب جانتے ہیں کہ امریکا، اسرائیل، ایران جنگ نے دنیا بھر کو معاشی یرغمال بنا رکھا ہے۔ سعودی عرب اور اومان کو چھوڑ کر دیگر خلیجی ریاستیں آبی پنجرے (خلیجِ فارس) میں قید ہیں اور یہ آبی پنجرہ ایران اور امریکا کی دوہری ناکہ بندی سے تالہ بند ہے۔ ان ریاستوں کو امریکا کی دوستی اور ایران سے دشمنی کی شکل میں دو طرفہ مار پڑ رہی ہے۔
آرام طلب علاقائی ممالک کے برعکس ایران کو پچھلے سینتالیس برس سے پابندیوں ا ور ناکہ بندیوں کے کوڑوں سے مسلسل پٹنے کا تجربہ ہے۔ چنانچہ اس نے ریاستی ڈھانچے کو ان پابندیوں کے مطابق ڈھال لیا ہے۔
کہتے ہیں جنگ اندھی اور لالچی ہوتی ہے اور مفتوح یا فاتح سے من مانی سیاسی، سماجی، اقتصادی و نفسیاتی قیمت وصول کرتی ہے۔ اس اصول کے مطابق مسلسل ثابت قدمی کے باوجود جنگ نے ایران کی طنابیں اور کھینچ دی ہیں۔ معیشت کی سانس چل رہی ہے مگر اکھڑی اکھڑی سی۔
امریکی عوام کو فی الحال پٹرول پمپوں پر تھوڑا بہت احساس ہو رہا ہے کہ دور کہیں کوئی بے مقصد جنگ ہو رہی ہے جس کا خمیازہ ایندھن کے گیلن کی قیمت میں دوگنا اضافے کی شکل میں جیب پر آ رہا ہے۔ مگر امریکا کے حریف ایران کی حالت جو کہ پہلے بھی ٹھیک نہیں تھی اب اور بگڑ رہی ہے۔ چنانچہ بالٓاخر فیصلہ اس پر ہوگا کہ کس کا صبر اور قوتِ ارادی پہلے ٹوٹتے ہیں یا کس کی آنکھ پہلے جھپکتی ہے۔
ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی تیرہ اپریل سے جاری ہے۔ گذشتہ دو........
