menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bharat, Israel, Shiva Ji Aur Dhirendra

30 0
14.07.2026

بھارت، اسرائیل، شیوا جی اور دھریندر

جب سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے مسلح شبخون کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد اسرائیلی و غیر ملکی شہری ہلاک ہوئے تو نیتن یاہو کی میز پر اظہارِ یکجہتی کا پہلا پیغام واشنگٹن یا یورپ سے نہیں بلکہ نریندر مودی کی جانب سے آیا۔ " اس دہشت گرد کارروائی سے شدید صدمہ پہنچا ہے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں ہم آپ کے شانہ بشانہ ہیں"۔ جب کہ ایک اور قریبی دوست ایران کے رہبرِ اعلی علی خامنہ ای کی اسرائیلی بمباری میں شہادت کی تعزیت میں مودی حکومت کو چار دن لگے۔

مودی جی آخری غیر ملکی رہنما تھے جنھوں نے ایران پر اسرائیل اور امریکا کے اچانک حملے سے دو دن پہلے تل ابیب میں اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں "پھادر لینڈ مدر لینڈ " والا خطاب کرکے سب کے دل موہ لیے۔ بھارت میں اسرائیل کے سفیر روون آزر کے بقول " ایک ایسی دنیا جو آفاقیت اور قوم پرستی کے مرحلے سے آگے نکل رہی ہے، مودی اور نیتن یاہو نہ صرف قوم پرستی بلکہ قومی شناخت کے داعی ہیں"۔

جیسے جیسے دونوں ممالک عالمی برادری میں الگ تھلگ نظر آ رہے ہیں ویسے ویسے یہ تنہائی انھیں مزید قریب لا رہی ہے۔ نیتن یاہو جرائم کی بین الاقوامی عدالت سے وارنٹ نکلنے کے بعد نہ صرف کئی مغربی ممالک میں ناپسندیدہ قرار پائے ہیں بلکہ اب تو سب سے بڑے اتحادی امریکا کی رائے عامہ بھی کھلم کھلا بیزاری کا اظہار کر رہی ہے۔

البتہ مودی حکومت سمجھتی ہے کہ انتہاپسند اسلام کی لہر کے آگے بند باندھنے کی کوششوں میں بھارت اور اسرائیل کو پہلے سے زیادہ یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کو بھی مغرب میں بڑھتی ہوئی بیزاری کے سبب مشرق میں ایک........

© Daily Urdu