menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Munafiq Muashra Aur Naqab

30 0
16.09.2026

منافق معاشرہ اور نقاب

دو سو سال پہلے ڈنمارک کے فلسفی سورین کیئرکیگارڈ نے لکھا کہ انسان کی سب سے گہری بیماری "ناامیدی" ہے اور یہ ناامیدی محض غم سے نہیں، بلکہ اپنی اصل ذات سے کٹ جانے سے پیدا ہوتی ہے۔ اُس نے ایک مثال دی۔ ایک آدمی بادشاہ بننا چاہتا ہے۔ کیئرکیگارڈ کہتا ہے، فرض کریں وہ بادشاہ بن بھی جائے، تب بھی وہ ہار گیا کیونکہ اِس دوڑ میں اُس نے اپنی اصل ذات کو چھوڑ دیا۔ اُس کا مشہور جملہ ہے"جو آپ حقیقت میں ہیں، وہی بننے کا حوصلہ، ناامیدی کا اُلٹ ہے"۔

یہ کوئی دور کی بات نہیں۔ ہمارے ہاں ہزاروں نوجوان ڈاکٹر یا انجینئر صرف اِس لیے بنتے ہیں کہ خاندان کی خواہش یہی تھی، حالانکہ اُن کا دل کہیں اور دھڑکتا تھا۔ کیئرکیگارڈ کے الفاظ میں، وہ "بادشاہ" تو بن جاتے ہیں، مگر راستے میں اپنا آپ کھو بیٹھتے ہیں۔ پھر ایک دن، کامیابی کے عین بیچوں بیچ، ایک عجیب سا خالی پن اُنہیں گھیر لیتا ہے، جس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ اِسی بات کو ایک اور رخ سے ماہرِ نفسیات کارل یونگ نے بیان کیا۔ یونگ نے ہمارے سماجی چہرے کو "پرسونا" کا نام دیا، یعنی وہ نقاب جو ہم دنیا کے سامنے پہنتے ہیں۔ یونگ کہتا ہے یہ نقاب بذاتِ خود بُرا نہیں، اِس کے بغیر معاشرے میں........

© Daily Urdu