Insani Mizaj Ka Raz Aur Jalinus
انسانی مزاج کا راز اور جالینوس
کسی زمانے میں خیال یہ تھا کہ انسانی جسم میں چار بنیادی مادے دوڑتے ہیں۔ یہ مادے نہ صرف ہماری بیماری بلکہ ہمارا مزاج بھی طے کرتے ہیں۔ یہ کیا تھے اس سے پہلے ایک سچا واقعہ پڑھیں۔ کہتے ہیں اس رات برف گرتی رہی تھی۔ بستر پر ایک بوڑھا آدمی سانس کے لیے لڑ رہا تھا۔ اُس کا گلا اندر سے سوج چکا تھا اور ہر سانس ایک الگ جنگ بن گئی تھی۔ کمرے میں تین معالج کھڑے تھے اور تینوں کو یقین تھا کہ علاج اُن کی مٹھی میں ہے۔ اُنہوں نے ایک باریک نشتر نکالا، بازو کی رگ پر رکھا اور خون بہنے دیا۔ ایک بار، پھر دوسری بار، پھر تیسری۔ اُس ایک دن میں اُنہوں نے اُس کے جسم سے، اندازاً اُس کے کل خون کا قریب چالیس فیصد، نکال دیا۔ شام ڈھلتے ڈھلتے وہ آدمی مر گیا۔ یہ دسمبر 1799 کی بات ہے اور وہ بوڑھا آدمی کوئی گمنام مریض نہ تھا۔ وہ امریکہ کا پہلا صدر، جارج واشنگٹن تھا۔
بعد کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ اُسے غالباً گلے کی ایک شدید سوزش تھی اور خون نکالنے سے وہ بچ نہ سکا تھا، بلکہ شاید جلدی چلا گیا۔ مگر یہ کہانی کا سب سے چونکانے والا حصہ نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ تینوں معالج جاہل یا ظالم نہ تھے۔ وہ اپنے دور کے بہترین ڈاکٹر تھے اور وہ ایک ایسے نظریے پر عمل کر رہے تھے جو اُس وقت پرانا ہو چکا تھا۔ ایک خوبصورت، مکمل اور سراسر غلط نظریہ۔
اِس نظریے کا نام تھا اخلاط کا علم۔ خیال یہ تھا کہ انسانی جسم میں چار بنیادی سیال (خلط) دوڑتے ہیں: خون، بلغم، صفرا (زرد پِت) اور سودا (سیاہ پِت)۔ یہ خیال یونانی طبیب ہپوکریٹس تک جاتا ہے، جسے طب کا باپ کہا جاتا ہے۔ مگر اِسے شخصیت کا نظریہ بنانے والا ایک رومی طبیب تھا، کلاڈیس جالینوس۔ دوسری صدی عیسوی میں اِس نے ایک جرات مندانہ چھلانگ لگائی: اُس نے کہا کہ یہی چار سیال نہ صرف ہماری بیماری بلکہ ہمارا مزاج بھی طے کرتے ہیں۔ جالینوس کے مطابق ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خلط غالب ہوتا ہے اور وہی اُس کی شخصیت بن جاتا ہے۔ جس میں خون زیادہ ہو، وہ خوش مزاج، پُرامید اور گرم جوش ہے (دموی)۔ جس میں بلغم غالب ہو، وہ ٹھنڈا، خاموش، پُرسکون مگر سست ہے (بلغمی)۔ جس میں زرد صفرا بھر جائے، وہ تند مزاج، آتشی اور جذباتی ہے (صفراوی) اور جس میں سیاہ پِت زیادہ ہو، وہ افسردہ، اداس، مگر شاعر اور فنکار ہے (سوداوی)۔ چار سیال، چار مزاج اور پورا........
