menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bari Beti

24 0
05.07.2026

دو ہزار چوبیس میں کیلیفورنیا کی ایک یونیورسٹی نے پندرہ سال پر محیط ایک تحقیق کا نتیجہ شائع کیا۔ سائنسدانوں نے ماؤں کو حمل کے زمانے سے لے کر اُن کے بچوں کی نوجوانی تک دیکھا اور ایک عجیب بات نوٹ کی: جن ماؤں نے حمل میں زیادہ تناؤ جھیلا، اُن کی پہلوٹھی بیٹیاں باقی بہن بھائیوں سے پہلے، وقت سے پہلے بڑی ہونے لگیں۔ نہ بیٹوں میں ایسا ہوا، نہ بعد میں آنے والی بیٹیوں میں۔ صرف سب سے بڑی بیٹی میں۔ گویا ماں کے پیٹ ہی میں ایک ننھے جسم کو پیغام مل چکا تھا کہ یہاں ذمہ داری بھاری ہے، جلدی تیار ہو جاؤ۔ یہ ابھی ایک ابتدائی نتیجہ ہے اور اِسے حتمی سچ نہ سمجھیں، مگر یہ اُس بوجھ کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے جو اس پورے مضمون کا موضوع ہے۔ ایک ایسا بوجھ جو ہماری زبان میں ایک معصوم سے لفظ کے پیچھے چھپا بیٹھا ہے۔ بڑی بیٹی۔

ذرا ایک منظر دیکھیے۔ کسی کی شادی ہے، شاید چھوٹی بہن کی، شاید کسی کزن کی۔ ہال میں سب بیٹھے ہیں، مگر بڑی بیٹی نہیں بیٹھی۔ وہ ماں کو دوا یاد دلا رہی ہے، کسی کا گمشدہ دوپٹہ ڈھونڈ رہی ہے اور ساتھ ساتھ خالہ کا وہ پرانا گلہ بھی سن رہی ہے جو ہر تقریب میں نیا ہو جاتا ہے۔ تبھی کوئی بزرگ اُس کی طرف اشارہ کرکے کہتا ہے: "ماشاء اللہ، اِس گھر کا تو سارا سہارا ہی یہ ہے"۔ سب سر ہلاتے ہیں۔ وہ تھکی سی مسکرا دیتی ہے۔ یہ تعریف نہیں تھی۔ یہ ایک عہدہ تھا، جس کی نہ کوئی تنخواہ ہے، نہ چھٹی، نہ سبکدوشی۔ نفسیات میں اِس کیفیت کا ایک نام ہے: "پیرنٹیفِکیشن"، یعنی بچے کو وقت سے پہلے، چپکے سے، والدین کا کردار سونپ دینا۔ گریگری یورکووچ نے اِس پر جو کتاب لکھی، اُس کا عنوان ہی پورا قصہ کہہ دیتا ہے: "کھویا ہوا بچپن"۔ یہی وہ بوجھ ہے جس کا ہم تذکرہ کررہے ہیں۔ اس کی قیمت ہے۔ ایک بچپن جو پھر کبھی واپس نہیں آتا۔

یہ سب نو یا دس برس کی عمر میں شروع ہوتا ہے۔ کوئی اعلان نہیں ہوتا، کوئی تربیت نہیں دی جاتی، کوئی تقرری کا خط نہیں آتا۔ بس ایک دن ماں زیادہ تھک جاتی ہے، یا........

© Daily Urdu