Aik Maa Ki Diary Se
جب تک ہم صرف "اولاد" ہوتی ہیں، ماں کی دنیا ہمیں محض ایک منظرنامہ لگتی ہے۔ دسترخوان پر سجی روٹی، استری کیا ہوا یونیفارم، بستر پر لگا تازہ غلاف۔ ہمیں چیزوں کی تیاری نظر آتی ہے، تیاری کرنے والے ہاتھوں کی تھکاوٹ نہیں۔ ہمیں "ہو جانا" دکھائی دیتا ہے، "ہونے" کے پیچھے چھپی راتوں کی قربانی نہیں۔
پھر ایک دن ہم خود ماں بن جاتی ہیں اور یوں پردے اٹھنے لگتے ہیں۔ ہم دیکھتی ہیں کہ روٹی صرف آٹا اور پانی نہیں ہوتی وہ ماں کی اُس نیند کا عکس ہوتی ہے جو چولہے کے سامنے قربان ہوئی۔ یونیفارم محض کپڑا نہیں ہوتا وہ اُس دعا کا کفن ہوتا ہے جو ماں نے استری کرتے ہوئے پڑھی۔ بستر پر غلاف کی سلوٹیں صرف سجاوٹ نہیں ہوتیں وہ دن بھر کی تھکاوٹ کے باوجود ماں کے ہاتھوں کی آخری محبت ہوتی ہیں۔
تب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وَهُنًا عَلَىٰ وَهُنٍ صرف قرآن کا ایک لفظ نہیں یہ ماں کے وجود کی تعریف ہے۔ یہ محض ایک کیفیت کا بیان نہیں، بلکہ ایک پوری کائنات کا نام ہے جس میں ہر ماں سانس لیتی ہے۔
آج جب میں اپنے بچوں کے درمیان کھڑی ہوتی ہوں تو شدت سے محسوس کرتی ہوں کہ یہ آیت میری روزمرہ زندگی کی سچی تصویر ہے۔
جب سورج کی پہلی کرن نمودار ہوتی ہے تو میرا جسم بستر سے اٹھ تو جاتا ہے، مگر وہ پہلے ہی تھکا ہوا ہوتا ہے۔ رات بھر پانچ ماہ کی ننھی بیٹی کی بے چینی نیند کو ٹکڑوں میں بانٹ........
