Hindustan Ke Thag
ایڈنبرا کوئنز میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں دنیا بھر سے جمع کی گئیں کچھ قدیم انسانوں کی کھوپڑیاں اور کچھ ڈھانچے رکھے ہیں۔ وہیں سات کھوپڑیاں ایسی ہیں جن کی تفصیل میں لکھا ہوا ہے "ہندوستان کے ٹھگ"۔ مزید تفصیل میں لکھا ہوا ہے "یہ پیشہ دنیا سے ختم ہوگیا"۔ میں ان کھوپڑیوں کو دیکھ رہا تھا اور میرے ذہن کے پردے پر ٹھگوں کی پوری تاریخ فلم کی صورت چل رہی تھی۔ ٹھگ امیر علی، ٹھگ فرنگیا اور ٹھگ بہرام کی تصوراتی شکلیں اُبھرنے لگیں تھیں۔ وہیں انگریز افسر میجر جنرل ولیم ہنری سلیمین بھی سُرخ کوٹ میں سامنے آن کھڑا ہوا۔
چودہویں صدی سے انیسویں صدی تک کے پانچ سو سالوں میں ہندوستان میں پیشہ ور قاتلوں کے گروہ وجود رکھتے تھے جن کو ٹھگ کہا جاتا تھا۔ انگریز سرکاری کاغذات کے مطابق ان پانچ سو سالوں میں ٹھگوں نے لگ بھگ بیس لاکھ لوگوں کا قتل کیا ہے۔ ٹھگی ایک خاندانی پیشہ ہوا کرتا تھا۔ ٹھگ اپنی جیب میں پیلے رنگ کا رومال رکھتے تھے جس سے لوگوں کا گلہ گھونٹا جاتا تھا۔ کشمیر سے کنیا کماری تک اور گجرات سے کلکتہ تک ٹھگوں کے گروہ تھے۔ یہ گروہوں میں کام کرتے تھے۔ ہندوستان چھوٹی بڑی کئی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ کوئی ایک مرکزی ریاست یا سینٹرل پولیس سسٹم وجود نہیں رکھتا تھا جس کے سبب ٹھگوں پر قانون کی گرفت ممکن بھی نہیں تھی۔
ٹھگوں میں سبھی دھرم کے لوگ تھے۔ یہاں تک کہ ہندو اور مسلمان دونوں ساتھ ایک گروہ میں کام کرتے تھے۔ یہ خود کو ماں بھوانی یا کالی ماتا کا بھگت کہتے تھے۔ حیرت انگیز طور پر مسلمان ٹھگ جو کلمہ گو تھے اور جو مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے تھے وہ بھی ماں بھوانی یا کالی ماتا کا نعرہ لگاتے تھے۔ ان کا نعرہ "ماں کالی کی جے ہو" ہوا کرتا۔ ٹھگوں کے بہت سے گروہ اور ان گروہوں کے بہت سے سردار تھے۔ ایک ٹھگ بہرام کے بارے کہا جاتا ہے کہ اس اکیلے نے 900 لوگوں کو اپنے رومال سے پھندا بنا کر گلہ گھونٹ کے مارا تھا۔ ایک اور ٹھگ سردار فرنگیا نے سات سو قتل کیے۔ دوسرے سرداروں جیسے کہ امیر علی اور چندن لال نے بھی سینکڑوں افراد کا گلہ گھونٹا تھا۔
ٹھگوں کے بارے سنہ 1356 میں لکھی گئی مشہور تاریخی کتاب "تاریخ فیروز شاہی" میں پہلی بار ان کا ذکر ملتا ہے۔ اس میں لکھا ہوا ہے کہ سنہ 1290 میں ٹھگوں نے سلطان فیروز شاہ تغلق کے ایک قریبی رشتہ دار کو قتل کر دیا تھا۔ جس پر سلطان نے حکم دیا کہ ٹھگوں کو گرفتار کیا جائے۔ لگ بھگ ایک ہزار ٹھگ اس زمانے میں پکڑے گئے لیکن فیروز شاہ تغلق نے ان پر رحم کھا کر جان بخشی کر دی اور ان کو ایک جگہ قصبہ بنا کر بسا دیا۔ اسی جگہ انہوں نے آپس میں........
