menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Israel Ke Liye Washington Mein Badalte Tewar

28 0
18.09.2026

اسرائیل کیلئے واشنگٹن میں بدلتے تیور

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ حالیہ بیان کہ "امریکا اپنی مشرقِ وسطیٰ کی خارجہ پالیسی کو اسرائیل کے تابع نہیں بنا سکتا" اور یہ اشارہ کہ صدر ٹرمپ امریکی مفادات کی خاطر نیتن یاہو سے راہیں جدا کرنے کے لیے تیار ہیں، بین الاقوامی اسٹریٹجک صف بندی میں ایک بہت بڑی اور تاریخی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ دہائیوں سے امریکی خارجہ پالیسی کا یہ غیر متزلزل اصول رہا ہے کہ اسرائیل کا تحفظ اور اس کی ترجیحات واشنگٹن کے لیے مقدم رہیں گی، چاہے اس کے لیے امریکا کو خطے میں کتنی ہی بڑی عسکری یا سیاسی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔ لیکن اب، امریکی اقتدار کے ایوانوں سے اٹھنے والی یہ آوازیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ تل ابیب کی اندھی حمایت کا دور اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔ یہ صورتحال محض ایک سیاسی بیان نہیں، بلکہ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی اور زوال کی طرف قدرت کا ایک واضح اشارہ ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی ریاست اپنی بقا کے لیے اخلاقیات، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی تمام حدیں پار کر لیتی ہے، تو وہ بتدریج اپنے مخلص ترین دوستوں کے لیے بھی ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ اسرائیل نے غزہ، لبنان اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں جس بیدردی اور جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیلا بلکہ خود امریکی مفادات کو بھی شدید ترین دھچکا پہنچایا ہے۔ حال ہی میں مشرقِ وسطیٰ میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر ہونے والے تباہ کن ایرانی میزائل اور ڈرون حملے، جن میں اربوں ڈالر کا امریکی فوجی ساز و سامان اور جدید انٹیلی جنس طیارے........

© Daily Urdu