menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gum Hota Adab Aur Madoom Hote Khel

28 0
03.09.2026

گم ہوتا ادب اور معدوم ہوتے کھیل

سوشل میڈیا کے جہاں بہت سے فائدے ہوئے وہیں یہ نقصان بھی ہوا کہ اس نے ہمارے بچوں سے روایتی کھیل چھین لیے ہیں۔ موبائل فونز کے دور میں جنم لینے والے بچے کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، چھپن چھپائی، باندر کلا جیسے درجنوں کھیلوں سے واقف ہی نہیں ہیں۔ کچھ ہمارے یہاں گراونڈیں بھی ختم ہوتی گئیں۔ کبھی لاہور چوبرجی کوارٹرز کے ساتھ مشہور گراونڈ تھی جہاں میلے، موت کا کنواں، رمضان بازار لگا کرتے اور عید سمیت دیگر مذہبی اجتماعات ہوا کرتے تھے۔ ہر شام بیک وقت کئی کئی ٹیمیں وہاں کھیلا کرتی تھیں۔

میٹرو ٹرین کی تعمیر کے دوران وہاں کنسٹرکشن کی ہیوی مشینری رکھی گئی اور پھر آہستہ آہستہ گراونڈ ہی ختم ہوگئی۔ اب وہاں سرکاری فلیٹ بن چکے ہیں۔ ایسی ہی کہانیاں کھیلوں کے دیگر میدان سناتے ہیں۔ اگلے روز لاہور پریس کلب میں حلقہ ارباب ذوق کے روح رواں شہزاد فراموش سے شکوہ کیا کہ ہمارے یہاں گزشتہ دس برس سے ایک جیسا ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ شاعری کے موضوعات ہوں یا نثر ہو۔ ایسے لگتا ہے جیسے کسی مشین کا سانچہ لگا ہوا ہے جس میں شاعری اور افسانے ڈال کر تیار کیے جا رہے ہیں۔ شہزاد فراموش یہ بات ماننے کو تیار نہ تھے۔

مکالمہ طویل ہوا تو وہ غصے میں آ گئے اور کہنے لگے آپ نے مطالعہ کیا ہو تو علم ہو۔ مجھے ہنسی آ گئی کہ شکر ہے یہ بات کراچی نثار لائبریری کے ابراہیم جمالی کے سامنے نہیں ہوئی جو ہر ماہ ہزاروں روپے کی کتب بھیجتے ہیں۔ مزاج آشنا ہیں اس لیے اب کتب کی فہرست اور بل اکٹھا ہی میسج کر دیتے ہیں۔ ان کے یہاں ہر قسم کی نئی........

© Daily Urdu