Tasadum Ka Anjam
سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کے مقدمات، ریلیف کی نوعیت اور ان کے حقوق کے حوالے سے سامنے آنے والے فیصلوں نے پاکستان کے عدالتی اور سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور آئینِ پاکستان کا آرٹیکل پچیس تمام شہریوں کے مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے مگر جب کسی اعلیٰ سیاسی شخصیت کو جیل کے سخت قوانین سے ہٹ کر خصوصی طبی سہولیات یا پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کی اجازت ملتی ہے تو یہ آئینی مساوات پر سوالیہ نشان ثبت کر دیتا ہے۔
پاکستان کے عام جیل خانہ جات کے قواعد کے مطابق قیدی کا علاج صرف سرکاری ہسپتالوں اور جیل کے اندر قائم طبی مراکز تک محدود ہوتا ہے اور کسی بھی قیدی کو ذاتی پسند کے پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرنے کا کوئی باضابطہ قانونی راستہ نہیں ہے۔ دنیا بھر کے جمہوریت پسند اور قانون پسند ممالک میں بھی سیاسی یا اعلیٰ سطح کے قیدیوں کو بنیادی انسانی حقوق اور اعلیٰ طبی سہولیات تو فراہم کی جاتی ہیں لیکن جیل دستی کتابچے کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے من پسند سہولیات کی خواہش کو آئین سے بالا تر نہیں سمجھا جاتا۔
پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کا یہ طرزِ عمل جہاں بعض حلقوں میں انسانی بنیادوں پر معزز اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے وہاں قانونی ماہرین اسے ایک خطرناک روایت قرار دے رہے ہیں جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ قانون کا معیار طاقتور اور عام آدمی کے لیے جدا جدا ہے۔ عدلیہ کے اس قسم کے فیصلے یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ پسِ پردہ محض قانون کی بالادستی نہیں بلکہ کوئی گہرا سیاسی تعامل اور مفاہمت کار فرما ہے جو انصاف کے نظام کی شفافیت کو متاثر کرتی ہے۔
سپریم کورٹ کے آئینی فیصلوں پر حکومت اور حکمران اتحاد........
