menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pait Ki Aag Aur Zameer Ki Maut

12 0
latest

پیٹ کی آگ اور ضمیر کی موت

یہ ہمارے معاشرے کا ایک عجیب المیہ ہے کہ بعض لوگ منبر، مذہب اور علم کی چادر اوڑھ کر اقتدار کے ایوانوں کے دروازے تک پہنچتے ہیں پھر آہستہ آہستہ ان کی زبان حق کی ترجمان نہیں بلکہ مراعات کی محافظ بن جاتی ہے کل تک جو شخص ایک حکمران کے قصیدے پڑھتا تھا آج دوسرے طاقتور کے دفاع میں دلائل کے انبار لگا رہا ہے۔ مسئلہ اختلافِ رائے کا نہیں، اصولوں کی اس تجارت کا ہے جہاں ضمیر خاموش اور پیٹ بولتا ہے جب انسان کے لیے حق سے زیادہ مراعات عزیز ہوجائیں تو پھر جھوٹ بھی دلیل بن جاتا ہے، خوشامد بھی حکمت کہلاتی ہے اور ظلم کی وکالت بھی مصلحت کا نام اختیار کر لیتی ہے۔

کچھ لوگ وقت کے ساتھ نہیں بدلتے صرف اپنے آقاؤں کے نام بدلتے ہیں ان کے نظریات وہیں رہتے ہیں جہاں ان کے مفادات ہوتے ہیں اقتدار کا سورج جس طرف طلوع ہو ان کی عقیدت بھی اسی طرف رخ کر لیتی ہے کل تک جو شخص ایک سیاسی حکومت کے دسترخوان پر مذہبی ٹھیکیدار کی حیثیت سے بیٹھا تھا اس وقت اسے ہر حکومتی فیصلہ درست، ہر پالیسی قابلِ تعریف اور ہر اقدام اسلام و ملک کے مفاد میں دکھائی دیتا تھا تعریف کے ایسے پل باندھے جاتے تھے کہ سننے والا سمجھتا تھا شاید حکومت ختم نہیں ہوگی اور یہ عقیدت بھی ہمیشہ قائم رہے گی۔

مگر اقتدار کا سورج غروب........

© Daily Urdu