menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hashmat Kamal Ilhami

12 0
yesterday

پہاڑ صرف برف پتھر اور چٹانوں کا نام نہیں ہوتے ان کی بھی ایک روح ہوتی ہے ایک حافظہ ہوتا ہے اور ایک تہذیب ہوتی ہے ان پہاڑوں میں کچھ لوگ ایسے بھی جنم لیتے ہیں جو خود ایک پہاڑ بن جاتے ہیں۔ وقت کی آندھیاں انہیں گرا تو سکتی ہیں مٹا نہیں سکتیں۔ پروفیسر حشمت کمال الہامی بھی گلگت بلتستان کے انہی بلند قامت لوگوں میں سے تھے۔ آج ان کی چھٹی برسی ہے چھ برس گزر گئے لیکن ادب کی دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جن پر وقت گرد نہیں جما سکتا وہ ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید معتبر ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ان کی اصل پہچان ان کا کردار ان کا علم اور ان کے لفظ ہوتے ہیں۔

حشمت کمال الہامی کو صرف شاعر کہنا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی وہ استاد تھے، محقق تھے، ادیب تھے، نقاد تھے اور سب سے بڑھ کر تہذیب کے امین تھے۔ انہوں نے صرف غزلیں نہیں لکھیں انہوں نے ایک پورے خطے کے احساسات کو زبان دی انہوں نے گلگت بلتستان کے حسن کو بھی بیان کیا اور وہاں کے انسان کی محرومی خودداری اور خوابوں کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ شاعری دراصل شاعر کی شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے اگر شخصیت میں اخلاص نہ ہو تو الفاظ میں تاثیر پیدا نہیں ہوتی۔ الہامی کی........

© Daily Urdu