Darakht Se Giray Zard Patton Se Sabaq Seekhein
درخت سے گرے زرد پتوں سے سبق سیکھیں
صاحب فکر انسان کے لئے زندگی نعمت ہے جبکہ عقل و دانش سے محروم انسان کے لئے وبال جان ہے۔ گزشتہ دنوں ایک پارک سے گزرنے کا اتفاق ہوا خزاں اپنے پورے جوبن پر تھی درخت خاموش کھڑے تھے اور ان کے گرد زرد پتوں کا ایک قالین بچھا ہوا تھا میں نے ایک لمحے کے لیے قدم روک لیے ایک خشک پتہ ہوا کے دوش پر میرے سامنے آ گرا میں اسے دیکھتا رہا۔ اچانک خیال آیا کہ یہ پتہ چند ماہ پہلے اسی درخت کی سب سے خوبصورت شاخ کا حصہ تھا اس میں زندگی تھی، تازگی تھی رنگ تھا غرور تھا یہ تیز آندھیوں میں بھی شاخ کا دامن نہیں چھوڑتا تھا مگر وقت نے اس کی طاقت چھین لی رنگ زرد پڑ گیا، رشتہ کمزور ہوگیا اور ایک دن وہ شاخ سے جدا ہو کر زمین پر آ گرا آج لوگ اسی پر چل رہے ہیں یہی زندگی کا سب سے بڑا فلسفہ ہے۔
انسان بھی اس زرد پتے سے مختلف نہیں بچپن سے جوانی تک وہ اپنے آپ کو ناقابلِ شکست سمجھتا ہے طاقت دولت، عہدہ، شہرت اور اختیار اسے یہ یقین دلاتے ہیں کہ شاید یہ سب ہمیشہ اسی کے پاس رہے گا لیکن وقت ایک ایسا بادشاہ ہے جو کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتا جوانی بڑھاپے میں بدل جاتی ہے طاقت کمزوری میں، اقتدار بے بسی میں اور زندگی چند گز مٹی میں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ غرور کس بات کا؟ جس انسان کو اپنی موت یاد ہو وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا جسے اپنی قبر کا یقین ہو وہ کسی کا حق نہیں کھاتا جسے روزِ حساب پر ایمان ہو وہ کسی بے گناہ کی آنکھ میں آنسو........
