Mann Chalay Ka Raj?
فیصل آباد کارپوریشن آفس کے مرکزی دروازے پر چسپاں ایک متنازع نوٹس نے نہ صرف صحافتی حلقوں میں بے چینی پیدا کی بلکہ پورے شہر میں ایک سنجیدہ بحث کو جنم دے دیا۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا کاغذ تھا، مگر اس کے الفاظ میں ایسی شدت اور مفہوم میں ایسی پیچیدگی تھی کہ اس نے قانون، اخلاقیات اور آزادیٔ اظہار جیسے بنیادی سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا۔
یہ نوٹس، غیر دستخط شدہ تھا مگر اس میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی اور بعض مخصوص سرگرمیوں کو "قانونی و اخلاقی خلاف ورزی" قرار دیا گیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی سرکاری ادارے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بغیر کسی باضابطہ حکم نامے، بغیر کسی دستخط یا مہر کے، اس نوعیت کا حساس اور سنگین نوٹس جاری کرے؟ اگر نہیں، تو پھر یہ نوٹس وہاں تک پہنچا کیسے؟
معاملہ اس وقت مزید الجھ جاتا ہے جب ریگولیشن آفیسر عظمت فردوس یہ بیان دیتی ہیں کہ "یہ نوٹس میں نے نہیں لگوایا، یہ کسی منچلے کی شرارت ہے"۔ یہ بیان بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر اس کے مضمرات نہایت گہرے اور خطرناک ہیں۔ اگر واقعی یہ کسی "منچلے" کی شرارت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک حساس سرکاری دفتر کی سیکیورٹی اس قدر کمزور ہے کہ کوئی بھی شخص آکر مرکزی دروازے پر اپنی مرضی کا نوٹس آویزاں کر سکتا ہے اور اگر ایسا........
