Aqil Baligh Ka Janaza, Bachon Ke Kandhon Par
پارلیمنٹٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی قانون سازی کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس قانون سازی کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیجتے تو اچھا ہوتا، میں آپ کے قانون کی خلاف ورزی کروں گا، 18 سال سے کم عمر 10-12 سال کےنوجوانوں کی شادیاں کراؤں گا۔
یہ جملہ اگر کسی طنزیہ افسانے کا آغاز ہوتا تو ہم داد دیتے، مگر بدقسمتی سے یہ بیان ایک سنجیدہ سیاسی قائد کا ہے۔
مولانا فضل الرحمان فرماتے ہیں: "میں 10 سال، 12 سال، 15 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا، خود ان میں بیٹھوں گا اور قانون کو چیلنج کرتا ہوں"۔
یہاں سب سے پہلا سوال یہ نہیں کہ قانون کیا کہتا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ مولانا صاحب! آپ جسے جوان کہہ رہے ہیں، وہ دراصل بچہ ہے اور اگر وہ لڑکی ہے تو بچی۔ دس سال کی بچی وہ ہوتی ہے جو ابھی گڑیا کے بال سنوار رہی ہوتی ہے۔ جو اسکول کی اسمبلی میں قطار سیدھی نہ ہونے پر ڈانٹ کھا لیتی ہے۔
جسے ماہواری کا نام سن کر بھی جھجک آتی ہے۔ جو آئین، نکاح نامہ، شوہر، سسرال اور ازدواجی حقوق جیسے الفاظ کا بوجھ سن کر ہی خوف زدہ ہو جائے۔ کیا واقعی ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ بچی کو دلھن اور بچے کو شوہر کہہ کر مطمئن ہو جائیں؟
ایک معصوم سوال: کیا 10 سال کی بچی شادی کر سکتی ہے؟
یہ سوال مغرب کا نہیں۔ یہ سوال اقوام متحدہ کا نہیں۔ یہ........
