menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gulab Aur Gobhi

21 0
25.07.2026

امی، مرد آخر اتنا ٹھرکی کیوں ہوتا ہے؟ وہ ایک ہی کا ہو کر کیوں نہیں رہ سکتا؟

نفیس نے فون کی اسکرین سے نظریں ہٹاتے ہوئے مجھ سے پوچھا؟

ہیں! صبح صبح ایسا لا ینحل مسئلہ؟

اللہ امی! سوالات کا کوئی ٹائم ٹیبل تھوڑی نا ہوتا ہے۔ نفیس نے ہنستے ہوئے میرے گالوں کو بوسہ دیا اور گاڑی کی چابی سنبھالتی یہ جا وہ جا۔

نفیس میری دلاری بیٹی تو یہ سوال اچھال کر دفتر سدھاری اور میں آملیٹ پلٹتے اور پراٹھے بیلتے پراٹھوں کی بل میں الجھتی ہی چلی گئی۔ دوران ناشتا یہ سوال مجھے بہت بہت پیچھے لے گیا۔ وہ بھٹو کا دور زوال تھا اور اُس سامری کی ساحری ایکسپائر ہو چکی تھی۔ سرمہ سرکار شب خون مارا چکے تھے اور ان کی غبّی مسکراہٹ سب کچھ بدل دیا۔ ہوا، فضا، ماحول اور سماجی برتاؤ سب شدید گھٹن زدہ۔ میں جامعہ کراچی میں انرز سے فائنل میں آ چکی تھی۔ ان دنوں جامعہ میں لگایا جانے والا نعرہ "ایشیا سبز" ہے جانے کس احمق کا تخلیق کردہ تھا۔ کاہے کا سبز بھائی! ایشیا تو ہمیشہ ہی خونم خون رہا ہے، لہو سے تر بتر سرخم سرخ اور اب تو ہمارے پڑوس میں بھی جنگ بھڑک چکی تھی۔ خیر دنیا ازل سے بے سکون ہی رہی ہے۔

جامعہ میں ہمارا فائنل ائیر کا فائنل سیمسٹر تھا تو ہم سب کا پگلانا تو بنتا ہی تھا۔ شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں ہم ساتوں کا شمار شعبے کی کریم میں ہوتا تھا۔ ہمارے گروپ میں تین بدیسی اور باقی کے چار اپنی کراچی کے بھئیے۔ افغانستان کا جمال شاہ اور ایران سے آئے باسم رضا اور سیمی شیرازی۔ ان دنوں پاکستان شاید ایرانیوں کا دوسرا گھر تھا۔ ہر شعبے میں ایرانیوں کی کثرت تھی۔ ہمارے ڈپارٹمنٹ کی ملکہ حسن مہر یار خان، پی ای سی ایچ ایس سے، ہمایوں شہزاد، ناگن چورنگی، نشاط ظفر ہمارے گروپ کی سقراط نارتھ ناظم آباد اور میں عزیز آباد کے پوائنٹ سے جامعہ پہنچتے تھے۔ مہر اور سیمی کی چوٹ برابر کی تھی کہ مہر حسنِ صورت سے آراستہ تو سیمی، سیمی تن و قاتل ادا۔ شیخ سعدی کی ہم وطن سیمی شیرازی الٹرا موڈ تھی۔ اکثر ڈپارٹمنٹ میں لانگ اسکرٹ یا چست جینز میں آتی۔ مرغوب تو اسے شارٹ اسکرٹ تھے پر صد شکر کہ اس نے شعبے کے لڑکوں پر رحم کھاتے ہوئے کبھی انہیں اُس کڑے امتحان سے نہیں گزارا۔ جب ہم سب فرسٹ ایئر آنرز میں تھے تو انہی دنوں ایک لیکچرار جرمنی سے تازہ بتازہ پی ایچ ڈی کرکے آئیں تھیں۔ ان کے مارڈن لباس نے جامعہ میں تھرتھریاں مچا دی تھیں اور ان کا لباس گویا قربِ قیامت کی نشانی ٹھہرا۔ یوں جامعہ میں ڈریس کوڈ لاگو کر دیا گیا۔

سجیلا ہینڈسم باسم رضا پہلے تولو پھر بولو کی تفسیر، حقیقتاً اس کی خاموشی بھی گونج دار ہوتی۔ ہماری فضول کی بحثوں میں باسم کا فرمانا ہی فرمانِ آخر ہوتا۔ جلال آباد سے آیا جمال شاہ اپنے پی ٹی وی کی حسین اداکارہ، فریال گوہر کے شوہر نامدار ہی طرح خوش جمال مگر تند و گرم مزاج۔ مہر یار خان بلا کی صاف گو بلکہ منہ پھٹ مگر وہی بات کہ حسن کے اضافی نمبروں کے صدقے

کتنے شریں ہیں تیرے لب کہ رقیب گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا

ہمایوں شہزاد مرنجا مرنج اور لطیفے گھڑنے میں ماہر۔ رہی میں یعنی تمکین تو میں نمک کی کان تو ہر گز نہ تھی پر شکلاً و مزاجاً قدرے نمکین و تیکھی۔ میری زندگی کا بہترین دور زمانہ طالب علمی ہی تھا۔ گو کہ ہم سب پر پڑھائی کا بار گراں اور ہم سب اپنی اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کی کوششوں میں اپنی جان کھپاتے ہوئے اپنے آپ کو دنیا کی مظلوم ترین مخلوق گردانا کرتے تھے۔ تب کسے خبر تھی کہ زندگی کیسے کیسے جھکولے دے گی۔

کووڈ سے ذرا ہی پہلے کی بات ہے کہ جامعہ کے شعبہ بین الاقوامی میں ری یونین کا غلغلہ اٹھا۔ مہر کی زندگی چونکہ جھیل کا کنول سو اس نے ہمایوں، نشاط، باسم، سیمی اور جمال شاہ کی کھوج میں........

© Daily Urdu