Pakistan Mein Barhte Hue Khandani Masail Aur Unka Mumkina Hal (1)
پاکستان میں بڑھتے ہوئے خاندانی مسائل اور اُن کا ممکنہ حل (1)
بہت سے ڈاکٹروں کی طرح subspecialty میرا اولین شوق تھا۔ Ophthalmology سے تبدیل ہوتے ہوئے پاکستان میں مجھے کارڈیک سرجن بننے کا ہی شوق ہوا۔ اس وقت لاہور میں پی آئی سی بالکل نیا بنا تھا۔ اس کی دودھیا رنگ کی روشنیوں میں نہائی خالی راہداریاں، جیل روڈ سے دکھائی دیتی بلند اور پروقار عمارت۔ عمارت میں موجود کشادہ دفاتر، ائیر کنڈیشنڈ وارڈز، صاف ستھرا کیفیٹیریا اور سب یا بہت سی ادویات کی موجودگی بہت اچھی دکھائی دیتی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ کم و بیش ایک ہی سال میں یہ اندازہ ہوگیا کہ کارڈیک سرجری کا جسمانی مشقت والا کام میرے بس سے باہر ہے لیکن مجھے کارڈیالوجی میں بہرحال کام کرنے کا موقع ملا جس میں EKG پڑھنے سے Temporary pace maker ڈالنا بھی سیکھ لیا البتہ جب میں امریکہ پہنچا تو میں اپنی زندگی کے روشن اور تاباں دن جن میں خواب دیکھے جاتے ہیں، وہ گزار چُکا تھا اور تب تک میرا مذاق بن چُکا تھا کہ "ڈاکٹر صاحب اب جانے دیں"۔ نوجوانی کی طاقت کم ہو رہی تھی اور "میں اور میری کامیابی" سے "ہم اور ہمارے خاندان کی کامیابی" کا سفر آن پہنچا تھا۔
بہت سی وجوہات کی بنا پر اب سائیکائٹری میرا پہلا خواب تھا اور پری میچ میں تین ریزیڈنسی کے مواقع ملے۔ ریڈیالوجی، سائیکائٹری (علم نفسیات) اور میڈیسن پیڈیاٹرکس (طب اور بچگان) کا مربوط پروگرام۔ میں نے سائیکائٹری کو ہی چُنا اور تب تک یہ بہت ظاہر ہو چُکا تھا کہ اس فیلڈ میں آنے والے سالوں میں بہت دم خم ہے۔ پہلا سال تو کچھ میڈیسن، نیورالوجی، ایمرجنسی روم اور پیڈیاٹرکس میں گزرا لیکن دوسرے سال میں تحلیل نفسی شروع........
