menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Har Safar Ki Aik Qeemat Hoti Hai

22 0
24.07.2026

ہر سفر کی ایک قیمت ہوتی ہے

کم و بیش تین دہائیاں یعنی ایک عمر ہی گزر گئی جب اوماہا نبراسکا میں ریزیڈنسی کے سال اول کا اختتام قریب تھا جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ والدہ محترمہ کی طبیعت بگڑ رہی ہے۔ اُس وقت تک میں اُن کو یہاں بلانے کی ساری ممکنہ کوششیں کر چُکا تھا۔ Oncology یعنی کینسر کی صدر شعبہ سے ملاقات ہوئی جو کہنے لگیں کہ میں کوشش کرتی ہوں کہ دوا کا بندوبست ہو سکے لیکن بہت پُر امید نہیں تھیں۔ انشورنس کا نہ ہونا ایک مشکل مرحلہ تھا۔

اس دوران ہماری اوماہا کی مسجد میں ایک عالم دین آئے۔ اب یاد نہیں لیکن غالباََ جمعہ کا خطبہ دینے آئے تھے۔ اُن سے چند منٹوں کی ملاقات کی درخواست کی اور حال احوال کہا۔ بہت نرم دل اور سمجھدار آدمی تھے۔ کہنے لگے کہ اگر آپ امریکہ میں علاج نہیں کروا سکتے تو وہاں کروائیے جہاں ممکن ہو اور کسی بھی غیر شرعی راستے کو لینے سے سختی سے منع کیا۔

اتنی دیر میں میری والدہ صاحبہ سے گفتگو ہوئی جنہوں نے عندیہ دیا کہ اگر میں بھی آ جاؤں تو علاج پاکستان میں چلتا رہے گا۔ فیضان کی پیدائش میں ابھی چند ہی دن باقی تھے۔ اس دوران USMLE سٹیپ تھری کی تاریخ بھی لے چُکا تھا۔ غالباََ پانچ دسمبر کو امتحان دیا اور امتحان دیتے ہی کینیڈا کا رخت سفر باندھا۔ ویزے کی ضرورت تو تھی ہی لہذا اوماہا سے پہلی ٹکٹ سئیاٹل کی لی اور وہاں سویرے منہ اندھیرے ڈاؤن ٹاؤن جا پہنچے اور کینیڈا کی ایمبیسی تلاش کرکے وہاں جا کر ویزہ کے کاغذات جمع کروائے۔ موسم رمضان تھا اور سئیاٹل کا موسم تکلیف دہ سرد تو نہیں لیکن حالت صیام میں کچھ سردی بھی زیادہ ہی لگتی ہے۔

بعد دوپہر ویزہ ملا اور........

© Daily Urdu