menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Musadaq Se Maduro Tak

17 1
20.01.2026

3 جنوری 2026 کو وینزویلا میں امریکہ کی حالیہ فوجی کارروائی"آپریشن ایبسولیوٹ ریزالو" اور 19 اگست 1953 کو ایران کے منتخت وزیراعظم ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے خلاف آپریشن "ٹی پی ایجیکس" دراصل ایک ہی کتاب کے دو باب ہیں۔ دونوں ممالک کا اپنے وسائل کو اپنی قوم کی ملکیت قرار دینا ان کا جرم ٹہرا۔ تیل، مغرب کے لیے صرف توانائی نہیں بلکہ طاقت کا ہتھیار رہا ہے اور جب یہ ان ممالک کے لیے قومی خودمختاری کی علامت بنا تو سامراجی طاقتوں کا ردِعمل ناگزیر ہوگیا۔ فرق صرف طریقۂ واردات کا ہے، لیکن منطق وہی ہے کہ جو قوم وسائل پر حق مانگنے کی جسارت کرے، اسے ناقابلِ حکمرانی بنا دو۔

وینزویلا سے پہلے ذرا ایران پر نظر ڈالتے ہیں۔

19 اگست 2013 کو منظرِ عام پر آنے والی سی آئی اے کی خفیہ دستاویزات میں پہلی بار باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا گیا کہ 1953 میں ایران کے منتخب وزیرِاعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنے میں سی آئی اے نے برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس (MI6) کے ساتھ مل کر فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ انہی دستاویزات میں سی آئی اے نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مصدق حکومت کا تختہ الٹنا ایک غیر جمہوری اقدام تھا۔ انکشافات کے مطابق مصدق حکومت کے خلاف بغاوت کی منصوبہ بندی ڈونلڈ ولبر نے کی، جن کا مؤقف تھا کہ "ایران کے موجودہ حالات کو بہتر بنانے کے لیے اس خفیہ منصوبے کے سوا کوئی اور راستہ موجود نہیں تھا"۔ دوسری جانب اُس وقت کے امریکی صدر آئزن ہاور کے نزدیک دنیا میں جمہوریت کا تحفظ اسی صورت ممکن تھا کہ ایران میں جمہوریت سے نجات حاصل کی جائے۔ یوں جمہوریت کے نام پر جمہوری حکومت کے خاتمے کو ایک ناگزیر حکمتِ عملی قرار دیا گیا۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران اگرچہ ایران نے غیر جانب دار رہنے کا اعلان کیا تھا، تاہم مغربی طاقتوں کے لیے خلیجِ فارس کی جغرافیائی اہمیت اور ایران میں تیل کے وسیع ذخائر پر کنٹرول جنگ میں کامیابی کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتے تھے۔ اسی بنا پر اتحادی افواج نے ایران کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا اور 1941 میں رضا شاہ پہلوی کو معزول کرکے ان کے بیٹے محمد رضا شاہ کو تخت پر بٹھا دیا۔

جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے تیل کے ذخائر پر برطانیہ کی اینگلو پرشین آئل کمپنی کا غلبہ قائم رہا، جس کے نتیجے میں ایران میں قوم پرست حلقوں کے اندر تیل کی صنعت........

© Daily Urdu