menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iss Sadi Ka Azeem Fitna

8 1
31.01.2026

اکیسویں صدی کا سب سے گمراہ کن فتنہ، جو آنے والی نسلوں کے ایمان کو دیمک کی طرح چاٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، وہ رابرٹ اسپینسر کی یہ حالیہ کتاب ہے۔ جس طرح پچھلی صدی کا بڑا چیلنج "الحاد" تھا، موجودہ دور میں "ناموسِ رسالت" پر حملہ ایک جدید الحاد کی شکل اختیار کر چکا ہے جو نوجوان ذہنوں کو پراگندہ کرنے کا خطرناک ہتھیار بن رہا ہے۔ مستشرقین کی یہ قدیم چال رہی ہے کہ وہ "لبرل محقق" کا لبادہ اوڑھ کر آقاﷺ کی ذاتِ اقدس کو نشانہ بنائیں۔ قرونِ وسطیٰ میں یہ جسارت دانتے کی "ڈیوائن کامیڈی" جیسے متعصبانہ ادب کی صورت میں تھی، پھر پچھلی دو صدیوں میں اسے "تحقیقی جواز" فراہم کیا گیا۔ کبھی اخلاقی لبادہ اوڑھ کر آقاﷺ کی تعریف میں زہر گھولا گیا، تو کبھی وحی کا انکار کرکے اسے محض عیسائی تعلیمات کا مجموعہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔

آج اسی اسلوب کو "Revisionist History" کا نام دے کر مسلم نوجوان میں ابہام پیدا کیا جا رہا ہے۔ اسی کا نتیجہ سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے جہاں آقاﷺ یا اصحابِ رسولﷺ کے بارے میں کچھ بھی پڑھنے پر نوجوان "سند" کا مطالبہ کرتے ہیں، جبکہ وہ خود ان ماخذ کو جانچنے کی علمی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ تشکیک انہیں اسی مجموعہء علم کی طرف لے جاتی ہے جہاں سے یورپ ان کی ذہن سازی کر رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اپنے ہی علماء کا مذاق اڑانا عادت بن چکی ہے اور مسالک کی جنگ میں الجھ کر نوجوان اپنی اصل بنیاد یعنی "ذاتِ رسولﷺ" سے دور ہو رہا ہے۔

آج ہم اس صدی کے سب سے بڑے علمی فتنے کا ذکر کر رہے ہیں جس کا عنوان ہے:

"Did Muhammad Exist? An Inquiry into Islams Obscure Origins"

(کیا محمد ﷺ کا وجود تھا؟ اسلام کے مبہم آغاز کی ایک تحقیق)

یہ کتاب پہلی بار مارچ 2012ء میں امریکہ کے........

© Daily Urdu