menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Rasool Ka Wasi e Barhaq, Apno Mein Ajnabi o Ghareeb (1)

17 0
09.03.2026

رسول ﷺ کا وصیِ برحقؑ، اپنوں میں اجنبی و غریب (1)

زمین کے ایک گوشہ میں خلائق سے دُور ایک مردِ غریب اقامت گزیں ہے۔ اس کی غربت انتہائی اندوہناک ہے۔ وہ ایک گوشہ میں تنہا بیٹھا ہوا ہے اس کی تنہائی اُس پر اتنی شاق ہے کہ بیان سے باہر وہ اپنی قوم میں رہتے ہوئے بھی اجنبی اور غریب ہے۔ لیکن قوم کی بدبختی ان کی پریشان حالی کی وجہ سے اس کا دل حزن و اندوہ سے پُر ہے زمانے نے اُسے نہیں پہچانا حالانکہ وہ تمام زمانہ پر چھائے ہوئے تھا۔ زمین نے اسے نہیں پہچانا حالانکہ یہ زمین اُس کے شیریں اور حکیمانہ کلمات سے برابر گونجتی رہی اور اُس کے بڑے بڑے کارنامے اپنی آنکھوں سے دیکھتی رہی۔

یہ مردِ غریب و اجنبی دوسروں پر اپنا کل مال و متاع لٹا دیتا تھا لیکن کسی سے کسی چیز کا طلبگار نہ ہوا اس پر لوگوں نے ظلم کے پہاڑ ڈھائے وہ کبھی اپنے دل میں انتقام کا خیال بھی نہیں لایا۔ اپنے دشمنوں پر فتحیاب ہونے کے بعد بھی اُس نے اُنہیں معاف کر دیا۔ اپنے بدخواہوں اور دشمنوں کے ساتھ کبھی زیادتی نہیں کی۔ اپنے چاہنے والوں کے لیے کبھی کسی ناروا فعل کا مرتکب نہیں ہوا، وہ ضعیفوں کا مددگار غریبوں کا بھائی یتیموں کا باپ اور زندگی سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کے لیے مہربان و شفیق تھا وہ ہر مشکل میں اُسی سے مشکلات کی مشکل کشائی کی توقع کرتے اور ہر مصیبت میں اُسی سے ڈھارس پانے کی امید کرتے۔ علم اس کا بہت زیادہ تھا۔ اس کا حلم بہت عظیم۔ اس نے اپنی عظمت و جلال سے کوہ و دشت کو بھر دیا تھا لیکن اسکا دل غم و اندوہ سے مملو تھا۔

بڑے بڑے دیووں کے سر اُس نے اپنی شمشیر سے کاٹے لیکن شفقت و محبت کے لحاظ سے خود مغلوب ہوگیا۔ دن کے وقت وہ عدل و انصاف اور خلائق کی داد رسی کرتا، احکامِ حق کے نفاذ پر کمر بستہ رہتا اور جب رات آتی تھی اور تاریکیِ شب اپنے شباب پر ہوتی تو غریبوں اور بے کسوں کے حال پر زار قطار رویا کرتا۔ روئے زمین پر ایک غریب و اجنبی تھا کہ جب کبھی کسی مظلوم نے اس سے ظلم و زیادتی کی شکایت کی اس نے اپنی کڑکتی ہوئی آواز سے ظالموں کے گھروں میں زلزلہ پیدا کر دیا جب بھی کسی فریادی نے اس سے فریاد کی برقِ شمشیر اس کی چمکی اور مکر و فریب کرنے والوں کی تاریکیوں کو نگل گئی جب کسی محروم نے آواز دی اس کے دل سے شفقت و عطوفت کی بارشیں ہونے لگیں اور ان بارشوں نے خشک و بنجر اور قحط زدہ کو ڈھانپ لیا۔

وہ بستی میں ایسا غریب و اجنبی تھا جس کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ درست تھا وہ کھردرے کپڑے پہنتا، عاجزی و خاکساری کے ساتھ چلتا اور جب بھی لوگ پستی کی طرف چلے اس نے اپنا رخ ہمیشہ بلندی کی طرف رکھا۔

یہ اجنبی اور اکیلا انسان جس نے خود ہر قسم کے دکھ جھیلے صرف اس لیے تاکہ عوام الناس مسرتوں سے نہال رہیں۔ مردِ یگانہ و دلیر اور اجنبی و یکتا انسان کون تھا جو ہر چیز سے واقف تھا اور ہر جانب جس کی نگاہ تھی، جس نے دنیا کی نعمت اور آخرت کی بہشت ایسے لوگوں کے لیے چاہی جو اسے ہمیشہ رنج و اذیت پہنچایا کیے۔ کون مردِ یگانہ اور روحِ قدسی والا انسان تھا جس کے دشمنوں نے حسد اور حرص و طمع کی وجہ سے اُس کی فضیلتوں کا انکار کیا اور جس کے دوستوں نے خوف و ہراس کی وجہ سے جسے بے ناصر و مددگار چھوڑ دیا۔ اس نے فتنہ و فساد اور تباہی و بربادی سے تنِ تنہا جنگ کی، خلائق کے ساتھ صداقت و راستی کے ساتھ پیش آیا اور اپنی روش ہمیشہ استوار رکھی جو فتحیابی و کامرانی پر کبھی فریفتہ نہ ہوا نہ شکست سے کبھی دل شکستہ ہوا، وہ محوِ حق تھا اور سوائے حق کے کسی اور چیز کی طرف دھیان نہ دیتا تھا خواہ کچھ لوگ اُس کی بزرگیوں کے منکر اور کچھ لوگ اس سے خوفزدہ و ہراساں ہی کیوں نہ رہیں۔

یہ مردِ یگانہ و بے نظیر کون ہو سکتا ہے؟ سوائے علی ابن ابی طالب امیر المومنینؑ کے آزردہ اور اندوہ گیں دل والے کہ، جن سے ایک خبیث و ناپاک انسان ایک خبیث و ناپاک عورت کے مہر کے لیے عنقریب فریب کرنے والا اور اُن کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کرنے والا تھا۔

رات تاریک اور ڈراؤنی تھی۔ آسمان پر ابرِ سیاہ محیط تھا کبھی کبھی بجلی چمک جاتی تھی جس کی روشنی گھٹاؤں کے اندھیرے میں اجالا پھیلا دیتی تھیں، عقاب اپنے گھونسلوں میں سوئے ہوئے اور سر نیہوڑائے ہوئے تھے کہ کل اُن کے پروبال جھڑ جانے والے تھے اور وہ سرورِ جہاںؑ کے غم میں سوگوار ہونے والے تھے۔

امام جاگ رہے تھے، آنکھیں خواب سے محروم تھیں کیونکہ روئے زمین پر دکھ کے مارے ظلم کے پنجہ میں تھے اور جینا ان کا دوبھر ہورہا تھا۔ کچھ لوگ لہو و لعب اور سرکشی میں مبتلا تھے۔ قوت و طاقت والے ایک طرف ظلم و جور کا بازار گرم کیے ہوئے تھے اور کمزور و ناتواں ان طاقتوروں کا لقمہ بنے ہوئے تھے۔ آپ کے دشمن شر و فساد میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹا رہے تھے، کچھ بدکار تھے جو تعصب و نافرمانی کے کاموں میں ایک دوسرے کی محبت کا دم بھرتے تھے۔ کچھ آپ کے وہ مخلص دوست تھے جنہوں نے حق کو چھوڑ دیا تھا اور ایک دوسرے کی مدد و نصرت سے گریزاں تھے۔

امام بیدار تھے، آنکھوں میں نیند کا پتہ نہ تھا کیونکہ عدل و انصاف مٹتا جا رہا تھا نیکی کو خیر باد کہہ دیا گیا تھا اور عوام الناس کی تقدیر فسادیوں کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی تھی، خلائق کی جان خونریز مفسدوں کے اختیار میں تھی، روئے زمین پر نفاق کی بہتات تھی۔

امام جاگ رہے تھے نیند کے ذائقہ سے محروم۔ وہ دنیا میں ہمیشہ حق و انصاف کے مددگار اور دستِ بازو رہے۔ مصیبت زدوں، پریشان حالوں کے لیے بنمزلہِ شفیق و مہربان بھائی کے تھے۔ ظالموں اور سرکشوں کے سروں پر مثلِ صاعقہ کے تھے۔ آپ اپنی زبان اور اپنی شمشیر دونوں سے ظالموں سے برسرِ پیکار رہے۔

اس شب آپ نے اپنی پوری زندگی پر نظر کی اگلے پچھلے حالات کا جائزہ لیا، بچپن ہی سے آپ کے ہاتھوں میں شمشیر براں رہی اور آپ اپنی قوم قریش والوں کا کلیجہ سہلائے رہے ان کے منہ پر تلوار لہرایا کیے اور دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کی، آپ کی قوم والے آپ کے ان سب کاموں کو کھیل سمجھ کر مذاق اڑاتے رہے لیکن آپ اپنے راستہ پر ثابت قدم اور نورِ رسالت کی خدمت میں جان لڑائے رہے۔

آپ نے اپنے متعلق یاد کیا کہ شبِ ہجرت بسترِ پیغمبرﷺ پر تلواروں کے سایہ میں محوِ خواب تھے جبکہ آپ کے سر پر آتشِ انتقام کے شعلے لپک رہے تھے، آپ کو امید تھی کہ ابوسفیان اور دیگر مشرکین بھٹک جائیں گے اور پیغمبرﷺ تک نہ پہنچ سکیں گے۔ آنحضرتﷺ ان دشمنوں کے ہاتھ نہ لگ پائیں گے اور آپﷺ کا نورِ رسالت جاہلیت کی تاریکیوں کو کافور کر دے گا۔

آپ نے پھر اپنی گذشتہ صعوبتوں اور ان لڑائیوں کا تصور کیا جن میں آپﷺ یکہ تاز عرصہِ شجاعت اور مردِ میدانِ وغا تھے جس نے اپنے ایمان اور پیغمبرﷺ کی محبت کی قوت، وطاقت کے ذریعے قلعوں کو منہدم اور ہر خبیث کو واصلِ جہنم کیا۔ آپﷺ کے اردگرد وہ غریب وفادار رفقاء و انصار تھے جو آپﷺ کی ہر ضرب پر سجدہِ شکر کرتے اور زمین کے بوسے لیتے وہ دیکھتے تھے کہ ظالم و سرکش آپﷺ کے سامنے سے یوں بھاگ رہے ہیں جس طرح ٹڈیاں آندھیوں میں تتر بتر ہو جاتی ہیں۔

آپ نے اپنے ابنِ عم پیغمبرِ خدا ﷺ کا تصور کیا جو کمالِ شفقت و محبت سے آپ کو دیکھ رہے تھے اور آپ کو اپنے کلیجے سے لگا کر ارشاد فرما رہے تھے "یہ میرا بھائی ہے"۔

آپ نے وہ وقت یاد کیا جبکہ پیغمبرِ خدا ﷺ آپؑ کے پاس تشریف لائے اور آپ محوِ استراحت تھے۔ جنابِ سیدہؑ نے چاہا کہ آپ کو نیند سے بیدار کر دیں، پیغمبرﷺ نے ارشاد فرمایا انھیں سونے دو کہ انھیں میرے بعد طولانی مدت تک خواب سے محروم رہنا ہے اس پر جنابِ سیدہ زار و قطار دیر تک رویا کیں۔۔


© Daily Urdu