Yousufi
مشتاق احمد یوسفی، اردو نثر میں مزاج نگاری کی پیوند کاری کرتے ہیں۔ اورصاحب خوب کرتے ہیں۔ شائستگی اورنفاست سے بھرپور مزاج لکھنا انھیں کا خاصا ہے۔ کئی ماہ پہلے، ایک کتاب موصول ہوئی، جس کا نام تھا Glimpses، ایس ایم شاہد نے یوسفی صاحب کے چیدہ چیدہ کام کو، انگریزی زبان میں ترجمہ کرکے لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ یوسفی صاحب کو پڑھنے کا تو خیر اتفاق ہوا ہی ہے۔ بلکہ یوٹیوب پر، ان کی زبانی، اپنی کتابوں کے اقتباسات بھی دیکھنے اور سننے کو ملے ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی، مزاح نگاری میں کیا مقام رکھتے ہیں۔ اس کا اندازہ آپ کو چند اکابرین کے درج شدہ جملوں سے ہو جائے گا۔
اگر مزاحیہ ادب کے موجودہ دور کو ہم کسی نام سے منسوب کرسکتے ہیں تو وہ یوسفی صاحب کا نام ہے۔ (ابن انشاء)
ہم اردو مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں۔ (ڈاکٹر ظہیر فتح پوری)
یوسفی ایک ظرافت نگار کی حیثیت سے ایک نیا دبستان ہیں۔ (مجنوں گورکھپوری)
ظرافت کے فن اور اس کے صحیفۂ اخلاق کا یوسفی کے ہاں بڑا قابل تعریف رکھ رکھاؤ ملتا ہے۔ طنز و ظرافت میں جتنے Pitfalls ہوتے ہیں، شعر و ادب کی شاید ہی کسی اور صنف میں ملتے ہوں۔ یوسفی اس منزل سے آسان اور کامیاب گزرے ہیں۔ (رشید احمد صدیقی)
اب ذرا، محترم یوسفی صاحب کی تحریر کی طرف آئیے۔ اس کتاب میں ایک صفحہ انگریزی ترجمہ ہے اور بالکل سامنے مشتاق صاحب کی تحریر ہے۔ ویسے یہ بھی بہت نفیس اور اعلیٰ کام ہے۔
پہلا پتھر: اپنا مقدمہ بقلم خود لکھنا کار ثواب ہے کہ اس طرح دوسرے جھوٹ بولنے سے بچ جاتے ہیں۔ دوسرا فائدہ یہ کہ آدمی کتاب پڑھ کر قلم اٹھاتا ہے۔ ورنہ ہمارے نقاد عام طورسے کسی تحریر کو اس وقت تک غور سے نہیں پڑھتے جب تک انھیں اس پر سرقے کا شبہ نہ ہو۔
، اس موقع سے جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا مختصر سا خاکہ پیش کرتا ہوں:
نام: سروق پر ملاحظہ فرمائیے۔
خاندان: سو پشت سے پیشۂ آبا، سپہ گری کے سوا سب کچھ رہا ہے۔
تاریخ پیدائش: عمر کی اس منزل پر آ پہنچا ہوں کہ اگر کوئی سن ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا........
